Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل میں تیزی

اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل میں تیزی

سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم کا جائزہ اجلاس

سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/4جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش ریاستوں میں اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ وقف بورڈ، حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود نے سروے کمشنر وقف اور سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کی تقسیم کے سلسلہ میں متعلقہ عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم نے آج اس مسئلہ پر عہدیداروں کے ساتھ جائزہ ا جلاس منعقد کیا۔ محکمہ جات کی تقسیم کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے مسلسل دباؤ کے پیش نظر اقلیتی اداروں کی تقسیم میں تیزی پیدا کردی گئی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کی تقسیم کو تقریباً قطعیت دے دی گئی ہے اور صرف بعض ضروری قواعد کی تکمیل باقی ہے۔ حکومت کی جانب سے تقسیم کے سلسلہ میں اجازت کے حصول کے ساتھ ہی ان اداروں کو دو ریاستوں میں تقسیم کرتے ہوئے علحدہ مقامات پر دفاتر قائم کئے جائیں گے۔ جناب احمد ندیم نے سروے کمشنر وقف اور سی ای ڈی ایم کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سروے کمشنر وقف کے تحت موجود ملازمین تلنگانہ ریاست میں خدمات انجام دیں گے جبکہ آندھرا پردیش میں نیا سروے کمشنریٹ تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے سروے کمشنر اور ان کے اسٹاف کے مسائل کی جلد یکسوئی کا بھی تیقن دیا۔ سروے کمشنر وقف حسن علی بیگ نے مسائل سے سکریٹری اقلیتی بہبود کو واقف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ پانچ ماہ سے وہ بحیثیت سروے کمشنر تنخواہ سے محروم ہیں، اس کے علاوہ سروے اسٹاف کی میعاد جون کے اختتام پر مکمل ہوگئی تاہم حکومت نے خدمات میں توسیع کے سلسلہ میں ابھی تک احکامات جاری نہیں کئے۔ وقف سروے جیسے اہم کام سے نمٹنے والے ادارہ کے بارے میں حکومت کی عدم دلچسپی حیرت کا باعث ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے متعلقہ فائیلیں پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ ضروری کارروائی کرسکیں۔ ڈائرکٹر سی ای ڈی ایم پروفیسر ایس اے شکور نے ادارہ کی کارکردگی اور تقسیم کی صورت میں مراکز اور ملازمین کی تقسیم کی صورتحال سے واقف کرایا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں موجود مراکز کو تقسیم کرتے ہوئے سی ای ڈی ایم کا ہیڈ آفس حیدرآباد میں ہی برقرار رکھا جانا چاہیئے۔ متعلقہ حکومتیں سی ای ڈی ایم کے نئے مراکز کے قیام کی مساعی کرسکتی ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کو پروفیسر ایس اے شکور نے اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تقسیم کے عمل سے واقف کرایا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی دونوں ریاستوں کے مشترکہ اثاثہ کے طور پر برقرار رہے گا۔ اس ادارہ کو شیڈول 10 کے اداروں کی فہرست سے نکالنے کیلئے حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا جائے گا۔ ڈائرکٹر دائرۃ المعارف پروفیسر مصطفی شریف نے ادارہ کی کارکردگی و مسائل سے واقف کرایا۔ جناب احمد ندیم نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اداروں کی تقسیم کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ دونوں حکومتوں کو ان پر تقررات کے سلسلہ میں سہولت ہو۔

TOPPOPULARRECENT