Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل کو قطعیت ، چیف سکریٹری کو رپورٹ پیش

اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل کو قطعیت ، چیف سکریٹری کو رپورٹ پیش

دائرۃ المعارف دونوں ریاستوں کا مشترکہ اثاثہ ، فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کو علحدہ دفاتر

دائرۃ المعارف دونوں ریاستوں کا مشترکہ اثاثہ ، فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کو علحدہ دفاتر

حیدرآباد۔/13مئی، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے اسپیشل سکریٹری سید عمر جلیل نے اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل کو آج قطعیت دے دی ہے۔ انہوں نے اقلیتی اداروں اور ان کے ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں چیف سکریٹری ڈاکٹر پی کے موہنتی کو رپورٹ پیش کردی۔ دیگر سرکاری محکمہ جات کے مقابلہ محکمہ اقلیتی بہبود نے اپنے اداروں کی تقسیم کا کام تیزی سے مکمل کرلیا ہے۔ سید عمر جلیل 14تا17مئی میگھالیہ کے دورہ پر روانہ ہورہے ہیں لہذا انہوں نے آج تمام اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے رپورٹ کو قطعیت دے دی۔ سید عمر جلیل عام انتخابات کے سلسلہ میں میگھالیہ میں مبصر مقرر کئے گئے ہیں اور وہ رائے شماری کے موقع پر اپنے فرائض انجام دینے کیلئے 14تا17مئی میگھالیہ میں رہیں گے۔ ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے تمام محکمہ جات کو 25مئی سے قبل تقسیم کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی تاہم دو ہفتے قبل ہی محکمہ اقلیتی بہبود نے اپنی رپورٹ چیف سکریٹری کو پیش کردی۔ آندھرا پردیش کی دو ریاستوں میں تقسیم کے سبب اقلیتی بہبود کے بھی اداروں کو دونوں ریاستوں میں منقسم کیا گیا ہے۔2جون کو دو نئی ریاستیں باقاعدہ وجود میں آجائیں گی اور اسی دن سے اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی دو ریاستوں میں تقسیم ہوجائیں گے جبکہ وقف بورڈ، حج کمیٹی اور سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز (CEDM) بعد میں تقسیم ہوں گے۔ ان اداروں کو تقسیم کے اُس زمرہ میں رکھا گیا ہے جہنیں 2جون کے بعد تقسیم ہونا ہے۔ دائرۃ المعارف دونوں ریاستوں کا مشترکہ اثاثہ ہوگا اور اسے تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ وقف بورڈ اور حج کمیٹی چونکہ پارلیمانی ایکٹ کے مطابق تشکیل دیئے گئے ہیں اور ان کا تعلق مرکز سے ہے لہذا ان اداروں کی تقسیم کیلئے مرکز کی منظوری ضروری ہے۔ توقع ہے کہ اندرون تین ماہ مرکز سے ان اداروں کی تقسیم کی منظوری حاصل ہوجائے گی۔2جون سے تقسیم ہونے والے اداروں اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کیلئے علحدہ علحدہ دفاتر قائم کئے جارہے ہیں۔ موجودہ اسٹاف کو تلنگانہ و آندھرا پردیش ریاستوں کیلئے الاٹ کیا جائے گا۔ حج ہاوز نامپلی میں دفاتر کے قیام کی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

حکومت کی جانب سے ان اداروں کے صدورنشین کے انتخاب کی صورت میں دونوں ریاستوں کے صدورنشین کیلئے علحدہ علحدہ چیمبرس قائم کئے جائیں گے۔ اسی دوران اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے واضح کردیا کہ حج کمیٹی کی تقسیم کا عمل حج 2014 سیزن کے اختتام کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ مشترکہ ریاست کے عازمین نے حج کمیٹی میں درخواستیں داخل کیں اور اسی بنیاد پر ان کا انتخاب عمل میں آیا، لہذا حج سیزن کی تکمیل سے قبل حج کمیٹی کی تقسیم ممکن نہیں۔ ریاست کے عازمین حج مشترکہ ریاست کے عازمین کی طرح حج کی سعادت کیلئے روانہ ہوں گے اور روانگی اور واپسی کی شیڈول بھی مشترکہ رہے گا۔اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے اس مکتوب کو سنٹرل حج کمیٹی اور مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی ای ڈی ایم کے تلنگانہ میں موجود سنٹرس عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت رہیں گے جبکہ سیما آندھرا کے سنٹرس الحاق کا فیصلہ وہاں کی نئی حکومت کرے گی۔ نئے دارالحکومت کے قیام کے بعد سی ای ڈی ایم کے مراکز کو قریبی یونیورسٹی سے مربوط کیا جائے گا۔ اقلیتی اداروں میں فائیلوں کو علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ دونوں ریاستوں کی مشترکہ فائیلوں کو علحدہ تیار کیا جارہا ہے جس کی نقل دونوں ریاستوں کے پاس ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT