Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کی تقسیم کے مسئلہ پر دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کا اجلاس

اقلیتی اداروں کی تقسیم کے مسئلہ پر دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کا اجلاس

اردو اکیڈیمی سی ای ڈی ایم اور سروے کمشنر وقف کی تقسیم کا جائزہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ نومبر (سیاست  نیوز) اقلیتی اداروںکی تقسیم کے مسئلہ پر تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عہدیداروں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اردو اکیڈیمی ، سی ای ڈی ایم اور سروے کمشنر وقف کی تقسیم کا جائزہ لیا گیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ سید عمر جلیل ، اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود آندھراپردیش شیخ محمد اقبال ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر اور سکریٹری و ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے اجلاس میں شرکت کی ۔ عہدیداروں نے فیصلہ کیا کہ مذکورہ تینوں اداروں کی تقسیم کی تجاویز اداروں کی تقسیم سے متعلق کمیٹی کو پیش کئے جائیں۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد دونوں حکومتیں علحدہ احکامات جاری کریں گی۔ اردو اکیڈیمی کے اثاثہ جات ریاستوں کی سطح پر تقسیم کئے جائیں گے اور جس ریاست میں جو اثاثے ہیں ، وہ اسی ریاست کی ملکیت رہیں گے۔ اردو اکیڈیمی کے تحت حیدرآباد میں اردو مسکن کے علاوہ کھمم ، کریم نگر اور نظام آباد میں اردو بھون و شادی خانے موجود ہیں جبکہ کرنول میں ایک بڑا اردو گھر شادی خانہ اکیڈیمی کے تحت کام کر رہا ہے۔ آندھراپردیش میں 36 کمپیوٹر سنٹرس اور 36 لائبریریز ہیں جبکہ ملازمین کی تعداد 182 ہے جو تمام عارضی ملازمین ہیں۔ تلنگانہ میں 43 کمپیوٹر سنٹرس اور 30 لائبریریز ہیں، ان کے 138 عارضی ملازمین ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اردو اکیڈیمی کے مستقل ملازمین کی تعداد 32 ہے جن میں صرف 3 کا تعلق آندھراپردیش سے ہے۔ مستقل ملازمین کی تقسیم کے طریقہ کار کو طئے کرنے کیلئے ری آرگنائزیشن کمیٹی سے رجوع کیا جائے گا۔ تنظیم جدید قانون کے تحت تلنگانہ میں 42 اور آندھراپردیش میں 58 فیصد ملازمین تقسیم کئے جانے چاہئے۔ تاہم آندھراپردیش میں ملازمین کی کمی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ اختیاری کمیٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں حکومتوں نے سوسائٹی ایکٹ کے تحت اردو اکیڈیمی کو رجسٹر کرلیا ہے۔ سی ای ڈی ایم کے تحت حیدرآباد میں ہیڈ آفس کے علاوہ کرنول ، گنٹور اور وشاکھاپٹنم میں ریجنل سنٹرس کام کر رہے ہیں۔ ہیڈ آفس تلنگانہ کا حصہ رہے گا جبکہ ریجنل سنٹرس آندھراپردیش کو منتقل کئے جائیں گے۔ آندھراپردیش میں یہ ادارہ آندھرا یونیورسٹی کے تحت کام کرے گا۔سروے کمشنر وقف میں صرف ایک اٹینڈر مستقل ملازم ہے جبکہ باقی آؤٹ سورسنگ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دونوں حکومتیں علحدہ سروے کمشنر کا تقرر کریں گی۔ واضح رہے کہ اقلیتی اداروں میں حج کمیٹی ، وقف بورڈ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تقسیم پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT