Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش حکومتوں میں ٹکراؤ

اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش حکومتوں میں ٹکراؤ

معطل شدہ دو عہدیداروں کی بحالی کے احکام قبول کرنے سے حکومت تلنگانہ کا انکار

معطل شدہ دو عہدیداروں کی بحالی کے احکام قبول کرنے سے حکومت تلنگانہ کا انکار
حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم تلنگانہ اور آندھرا پردیش حکومتوں میں ٹکراؤ کا سبب بن چکی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دو معطل شدہ عہدیداروں کی بحالی سے متعلق آندھرا پردیش حکومت کے احکامات کو تلنگانہ حکومت نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس طرح دونوں ریاستوں کے محکمہ اقلیتی بہبود میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ آندھرا پردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن ابھی تک دونوں ریاستوں میں منقسم نہیں ہوا اس اعتبار سے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود آندھرا پردیش شیخ محمد اقبال نے فینانس کارپوریشن میں 2012 میں پیش آئے مالیاتی اسکام کے دو مبینہ ملزمین کی بحالی کے احکامات جاری کئے۔ یہ احکامات کل رات جاری کئے گئے اور دونوں عہدیدار محمد لیاقت علی جنرل منیجر اور شیخ احمد علی اکاؤنٹس آفیسر آج صبح ان احکامات کی رو سے ڈیوٹی جوائن کرنے کیلئے پہنچے۔ انہوں نے اپنا جوائننگ لیٹر منیجنگ ڈائرکٹر پروفیسر ایس اے شکور کو پیش کیا۔ منیجنگ ڈائرکٹر نے اس سلسلہ میں کارروائی سے قبل اسپیشل سکریٹری تلنگانہ سید عمر جلیل سے رائے طلب کی۔ تلنگانہ کے اسپیشل سکریٹری نے فوری منیجنگ ڈائرکٹر کو ایک میمو جاری کرتے ہوئے آندھرا پردیش حکومت کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس طرح دونوں عہدیداروں کو ڈیوٹی پر رجوع ہونے سے روک دیا گیا۔ تلنگانہ حکومت کا استدلال ہے کہ اس قدر بڑے مالیاتی اسکام میں ملوث افراد کی معطلی برخاست کرنے کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ حکومت کا یہ بھی استدلال ہے کہ دونوں عہدیداروں کو ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی راحت نہیں ملی ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود نے اس مسئلہ پر ویجلینس کمیشن سے رائے طلب کی ہے لہذا ویجلینس کمیشن کا جواب ملنے تک ان عہدیداروں کو ڈیوٹی پر رجوع کرنے سے انکار کردیا گیا۔ تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود نے اس سلسلہ میں آج ہی ویجلینس کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ تلنگانہ اقلیتی بہبود کے اس غیر متوقع اقدام پر آندھرا پردیش حکومت نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسپیشل سکریٹری آندھرا پردیش شیخ محمد اقبال نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت نے اس فیصلہ سے قبل ویجلینس کمیشن سے رائے حاصل کرلی ہے لہذا تلنگانہ حکومت کو جی او پر عمل آوری کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل ڈی جی پی سی آئی ڈی نے حکومت آندھرا پردیش کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس اسکام میں مذکورہ دونوں عہدیدار مجرمانہ طور پر ملوث نہیں ہیں اور صرف بعض تساہل کے سلسلہ میں ان پر محکمہ جاتی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ قواعد کے مطابق کسی بھی ملازم یا عہدیدار کو دو سال سے زائد مدت تک معطلی میں نہیں رکھا جاسکتا لہذا تحقیقات کو جاری رکھتے ہوئے حکومت نے بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسکام کے کلیدی ملزم عہدیدار کو حکومت نے بہت پہلے ہی معطلی ختم کرتے ہوئے بازمامور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کے ذریعہ آندھرا پردیش حکومت نے مذکورہ عہدیداروں کو کلین چٹ نہیں دی۔ تحقیقات کی تکمیل کے بعد رپورٹ کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود نے اپنے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے آندھرا پردیش حکومت کے جی او پر عمل آوری روک دی ہے جبکہ جی او پر عمل آوری اس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن ابھی تک آندھرا پردیش کے نام پر ہے لہذا تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود کو مداخلت کا حق نہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ دونوں محکمہ جات کا یہ ٹکراؤ کس حد تک جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT