Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی ادارہ جات میں ملازمین کی حاضری کیلئے بائیو میٹرک سسٹم

اقلیتی ادارہ جات میں ملازمین کی حاضری کیلئے بائیو میٹرک سسٹم

حیدرآباد۔ 3۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت اقلیتی اداروں میں ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے اور باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے کیلئے تمام دفاتر میں عصری بائیو میٹرک حاضری سسٹم متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وقف بورڈ میں اس سسٹم پر کامیابی سے عمل آوری کے بعد حکومت نے دیگر اقلیتی اداروں میں بھی اس طرح کو توسیع دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ باوث

حیدرآباد۔ 3۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت اقلیتی اداروں میں ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے اور باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے کیلئے تمام دفاتر میں عصری بائیو میٹرک حاضری سسٹم متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وقف بورڈ میں اس سسٹم پر کامیابی سے عمل آوری کے بعد حکومت نے دیگر اقلیتی اداروں میں بھی اس طرح کو توسیع دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وقف بورڈ میں بائیو میٹرک حاضری نظام متعارف کئے جانے کے بعد سے ملازمین اور عہدیداروں کی مقررہ وقت پر حاضری دیکھی جارہی ہے۔ اس سسٹم کے تحت مقررہ وقت کے 15 منٹ بعد مشین کو بند کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد آنے والے کا تاخیر سے آنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ ملازمین کو آمد اور روانگی کے موقع پر اپنے فنگر پرنٹ کے ذریعہ حاضری درج کرانی ہوتی ہے۔ اقلیتی اداروں میں عہدیداروں اور ملازمین کی نشستوں پر عدم دستیابی کی شکایت عام ہے، اسے دیکھتے ہوئے حکومت نے اس عصری سسٹم کو متعارف کرنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحلہ وار انداز میں دیگر اقلیتی اداروں ، اردو اکیڈیمی ، اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کے دفاتر میں بھی اس سسٹم کو رائج کیا جائے گا ۔

اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام جب اپنے مسائل کے حل کے سلسلہ میں ان دفاتر سے رجوع ہوتے ہیں تو وہاں متعلقہ ملازمین دستیاب نہیں ہوتے۔ اکثر ملازمین کو دوپہر کے بعد دفتر آتے ہوئے دیکھا گیا اور کئی ملازمین مقررہ وقت سے پہلے ہی دفتر سے روانہ ہوجاتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمود علی نے اقلیتی دفاتر کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم کو سخت گیر اقدامات کا مشورہ دیا ہے تاکہ اقلیتی دفاتر میں ڈسپلن بحال کیا جاسکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ملازمین کی دفتر کے اوقات میں موجودگی سے سرکاری اسکیمات پر موثر عمل آوری اور عوامی مسائل کی یکسوئی میں مدد ملے گی۔

ملازمین اور عہدیدار جب ہر طرح کی سہولتیں حکومت سے حاصل کر رہے ہیں تو حکومت بھی ان سے بہتر کارکردگی کی توقع رکھتی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود بہت جلد اس مسئلہ پر اقلیتی اداروں کے سربراہوں سے مشاورت کریں گے۔ حکومت اقلیتی اداروں کی کارکردگی پر موثر نگرانی کے لئے جناب احمد ندیم کو صرف اقلیتی بہبود کی ذمہ داری دینے پر غور کر رہی ہے۔ ان کے پاس کمشنر اکسائز اور مینجنگ ڈائرکٹر بیوریجس کارپوریشن کی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت انہیں زائد ذمہ داریوں سے سبکدوش کرتے ہوئے اقلیتی بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دے گی تاکہ وہ اپنا سارا وقت اقلیتی بہبود کی کارکردگی اور اسکیمات پر موثر عمل آوری پر صرف کرسکیں۔ حکومت وقف بورڈ میں مستقل طور پر چیف اگزیکیٹیو آفسر کے تقرر کیلئے بہت جلد احکامات جاری کردے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عہدہ کیلئے ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس عہدیدار نے وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے سے اتفاق کرلیا۔

TOPPOPULARRECENT