Sunday , May 27 2018
Home / Top Stories / اقلیتی اقامتی اسکولس ، مسلمانوں کو کے سی آر کا تحفہ : عامر علی خاں

اقلیتی اقامتی اسکولس ، مسلمانوں کو کے سی آر کا تحفہ : عامر علی خاں

مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا خاتمہ 12 فیصد تحفظات سے ہی ممکن ، جگتیال میں اساتذہ و طالبات سے خطاب

حیدرآباد 14 نومبر (سیاست نیوز) حقوق کیلئے حکومت کو منوانا اور ان سے مستفید ہونا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ 12 فیصد تحفظات کی فراہمی تک مسلمانوں کی مجموعی پسماندگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست نے کیا۔ انھوں نے آج یہاں جگتیال میں ایک اہم اجلاس کو مخاطب کیا۔ جگتیال کے اقلیتی اقامتی اسکول کا نیوز ایڈیٹر سیاست نے دورہ کیا اور تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر اقلیتی اقامتی اسکول کے طلبہ نے بیانڈ باجے کے ساتھ اپنے مہمان کا روایتی پرجوش استقبال کیا۔ جناب عامر علی خاں نے طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کی جانچ کی اور انھیں مفید مشورے دیئے۔ انھوں نے طلبہ کے تعلیمی مظاہرہ پر مسرت کا اظہار کیا اور کہاکہ اقلیتی اقامتی اسکول چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے مسلمانوں کو ایک تحفہ ہے۔ انھوں نے حکومت کے اقدام کی ستائش کی اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی سمت اقامتی اسکول کو ایک بہترین پہل قرار دیا اور کہاکہ اقامتی اسکولس سے تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے لیکن معاشی اور مسلمانوں کی مجموعی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے 12 فیصد تحفظات ہی واحد راستہ ہے۔ مسلمان تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے جال سے باہر آجاتے ہیں تو پھر ان کی ترقی سے سارے سماج کو فائدہ ہوگا۔ ساتھ ہی انھوں نے مسلمانوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور قوم و ملت کی تعمیر میں رول ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب عامر علی خاں نے کہاکہ دنیا خصوصیت پر نظر رکھتی ہے اور حوصلہ و خود اعتمادی سے انسان اپنے آپ میں خصوصیت پیدا کرسکتا ہے۔ انھوں نے طلبہ سے کہاکہ وہ سچی لگن اور سخت محنت سے تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوائیں۔ آج ہر طرح کی سہولیات طلبہ کو فراہم کی جارہی ہے لہذا طلبہ اور اولیائے طلبہ کو چاہئے کہ وہ ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ملک و ریاست کا نام روشن کریں۔ انھوں نے تمام سہولیات کے ساتھ مفت تعلیم کی فراہمی کے اس اقدام کے لئے چیف منسٹر کی ستائش کی اور اس اقدام کو قابل قدر قرار دیا۔ انھوں نے کہاکہ مسلمان ان سہولیات سے یکسر طور پر محروم تھے۔ تاہم اب ایسی سہولیات کا آغاز ہوا ہے۔ انھوں نے اس بات کو واضح کردیا کہ حصول 12 فیصد تحفظات تک سیاست کی تحریک جاری رہے گی۔ جو صرف اور صرف مسلمانوں کے حق میں ہے نہ کہ کسی کے حق میں ہے اور نہ ہی کسی کی مخالفت میں ہے۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے طلبہ کے تعلیمی مظاہرہ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انھیں انعامات کی پیشکش اور سیاست کی جانب سے طلبہ کو جماعت واری سطح پر پہلا، دوسرا اور تیسرے انعام کا اعلان کیا۔ انھوں نے اقامتی اسکول میں زیرتعلیم طلبہ کو ہنر سے آراستہ کرنے کے لئے ادارہ سیاست کی جانب سے چاکلیٹ بنانے کی ترکیب اور مفت تربیت کی سہولیات کا اعلان کیا۔ انھوں نے طلبہ سے خواہش کی کہ وہ اچھی تعلیم اور ڈسپلن کا خیال رکھیں اور ٹیچر کو ماں کا درجہ دیں۔ انھوں نے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ جلد سونا اور جلد بیدار ہونے کی عادت بنالیں۔ انھوں نے مسلمانوں کی تحفظات کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے اس کی اہمیت کو پیش کیا اور کہاکہ آج ہونہار و باصلاحیت ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کو مواقع دستیاب نیں جو اپنی صلاحیتوں کو منوانا چاہتا ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا خواہشمند ہے سہولیات کے فقدان اور معاشی حالت اُسے اپنی خوابوں کو پورا کرنے نہیں دیتی اور ایسی رکاوٹوں کو دور کرنے کا حل 12 فیصد مسلم تحفظات میں موجود ہے اور اس کے حصول تک سیاست کی جدوجہد جاری رہے گی۔ چلڈرنس ڈے کے موقع پر طلبہ نے تعلیمی مظاہرہ کیا اور نعت و ترانہ پیش کیا۔ اس موقع پر پرنسپل لکشمن چاری نے اسکول کی تفصیلی رپورٹ پیش کی اور محمود علی افسر سپرنٹنڈنٹ نے عامر علی خاں کا خیرمقدم کیا۔

TOPPOPULARRECENT