Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں دو ہزار سے زائد نشستیں مخلوعہ

اقلیتی اقامتی اسکولس میں دو ہزار سے زائد نشستیں مخلوعہ

اقلیتوں میں دلچسپی کا فقدان ، سکریٹری اسکولس سوسائٹی بی شفیع اللہ کا میڈیا سے خطاب
حیدرآباد۔/11اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے قائم کردہ 71اقامتی اسکولس کے سلسلہ میں اقلیتوں کی دلچسپی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسکولوں کی سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ 2000 سے زائد نشستیں مخلوعہ ہیں جن پر اسپاٹ ایڈمیشن دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 31اگسٹ تک طلبہ اور ان کے سرپرست اس سہولت سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخلوعہ نشستیں زیادہ تر گرلز اقامتی اسکولس میں ہیں اور حیدرآباد سے زیادہ اضلاع کے اسکولوں میں مخلوعہ نشستوں کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے اولیائے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دلائیں۔ شفیع اللہ کے مطابق حیدرآباد کی 600نشستوں میں 59نشستیں خالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بوائز اسکولوں میں مخلوعہ نشستوں کی تعداد کافی کم ہے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے بہتر تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ تین ماہ بعد باقاعدہ اسٹاف کا تقرر عمل میں آئے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ عبوری اسٹاف کے سبب بعض دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ شفیع اللہ نے کہا کہ اسکول کے اوقات کے بعد شام میں روزانہ ایک گھنٹہ تک غیر رسمی تعلیم کے طور پر دینیات پڑھائی جائے گی اس کے لئے ایک اسسٹنٹ وارڈن کا تقرر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسکولوں کے قیام سے قبل حکومت نے دینیات اور اخلاقیات کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب اسے اسکولی اوقات کے بعد پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شفیع اللہ نے کہا کہ ہر طالب علم پر 80 ہزار روپئے خرچ کئے جارہے ہیں اور تمام عصری سہولتیں موجود ہیں۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے بیرونی اداروں سے تعاون حاصل کرنے اے کے خاں ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو امریکہ کے دورہ پر روانہ ہورہے ہیں۔ شفیع اللہ نے بعض اسکولوں میں وندے ماترم پڑھائے جانے کا اعتراف کیا اور کہا کہ شکایات ملنے پر سوسائٹی نے تمام اسکولوں کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں اور وندے ماترم کو روک دیا گیا ہے۔ داخلہ کیلئے 37000 آن لائن درخواستوں کے ادخال کے باوجود مخلوعہ نشستوں کی وجہ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ بسااوقات غیر سنجیدہ افراد بھی درخواستیں داخل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی کارکردگی میں کوئی رکاوٹ نہیں تاہم طلبہ اور سرپرستوں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داخلے کے خواہشمند اولیائے طلبہ اپنے متعلقہ علاقہ کے اسکول سے اسپاٹ ایڈمیشن کیلئے رجوع ہوسکتے ہیں انہیں دوبارہ آن لائن درخواست کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ تعلیمی سال کے آغاز کو دو ماہ گذر گئے اب نئے طلبہ کس طرح نصاب مکمل کریں گے۔ شفیع اللہ نے کہا کہ اس کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ واضح رہے کہ سوسائٹی کے ذمہ داروں کے دعوے اپنی جگہ لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی بیان کررہی ہے۔ شہر اور اضلاع کے اسکولوں میں انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور اس سلسلہ میں آئے دن اخبارات میں خبریں اور سرپرستوں کی ناراضگی شائع ہورہی ہے۔ سہولتوں کی کمی اور غیر معیاری اساتذہ اور تعلیم کے سبب اولیائے طلبہ اپنے بچوں کو اسکولوں سے واپس لے جارہے ہیں۔ اولیائے طلبہ کی شکایت ہے کہ کئی اسکولوں میں ابھی تک فرنیچر اور بیڈز فراہم نہیں کئے گئے اور طلبہ فرش پر سونے کیلئے مجبور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT