Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں 11 جولائی سے تعلیم کا باقاعدہ آغاز

اقلیتی اقامتی اسکولس میں 11 جولائی سے تعلیم کا باقاعدہ آغاز

متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس ، اے کے خاں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 4 ۔ جولائی (سیاست نیوز) اقلیتوں کے اقامتی اسکولس میں عید کی تعطیلات کے بعد 11 جولائی سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوجائے گا۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خان نے ریاست بھر کے متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں اسکولوں کے آغاز پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس ، اگزیکیٹیو ڈائرکٹرس اور ہر ضلع کے آفیسران اسپیشل ڈیوٹی نے اجلاس میںشرکت کی اور اپنے اپنے ضلع کی رپورٹ پیش کی۔ اسٹیٹ آفیسرس میں بی شفیع اللہ ، پروفیسر ایس اے شکور ، محمد اسد اللہ ، معصومہ بیگم اور دوسروں نے شرکت کی۔ تین مراحل میں اسکولوں کا افتتاح عمل میں آیا ہے اور 70 اسکولس شروع ہوچکے ہیں جبکہ ایک اسکول میں فرنیچر کی کمی کے باعث تاخیر ہوئی ہے۔ اے کے خان نے ہر  ضلع کے بارے میں رپورٹ حاصل کرنے کے بعد عہدیداروں کو تیقن دیا کہ جن اسکولوں میں انفراسٹرکچر ابھی نہیں پہنچا، وہاں تعطیلات کے اختتام تک پہنچ جائے گا ۔ بعض اضلاع میں فرنیچر اور دیگر سہولتوں کی کمی کی شکایات آئی ہے۔ انہوں نے حکومت کے منصوبہ کے مطابق طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کارپوریٹ طرز کی تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ اساتذہ کی بہتر خدمات کو یقینی بنائے تاکہ تعلیم کے آغاز سے ہی طلبہ معیار کے مطابق تیار کئے جاسکے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جن اسکولوں میں منتخب طلبہ داخلہ کیلئے رجوع نہیں ہوئے ، وہاں 12 جولائی کو ویٹنگ لسٹ کے اعتبار سے نشستیں پر کی جائیں۔ اسی دوران اقامتی اسکولس میں حکومت کے بجائے بعض رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے فرنیچر اور دیگر سامان کے حصول پر اولیائے طلبہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض رضاکارانہ تنظیموں اور افراد نے طلبہ کیلئے بلانکٹس ، بیڈشیٹس کے علاوہ واٹر ہیٹر اور دیگر سامان فراہم کرنے کا پیشکش کیا جسے عہدیداروں نے قبول کرلیا ہے ۔ اداروں اور افراد میں بعض اسکولوں کی نشاندہی بھی کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف یہ ادارے اور افراد زکوٰۃ کی رقم سے طلبہ کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ جو اولیائے طلبہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت اسکول سوسائٹی کیلئے بجٹ جاری کر رہی ہے تو پھر زکوٰۃ کی رقم سے طلبہ کو سہولتیں فراہم کرنا کہاں تک درست ہے ۔ اسکولوں میں طلبہ کا تعلق سید گھرانے سے بھی ہے جنہیں زکوٰۃ کی رقم سے مدد نہیں کی جاسکتی۔ ایسے میں اسکولوں کیلئے زکوٰۃ حاصل کرنا مناسب نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکولوں کی سوسائٹی سے وابستہ ایک ادارہ نے تمام اسکولوں میں بلانکٹس کی فراہمی کا پیشکش کیا ہے اور تعطیلات کے دوران سربراہی عمل میں آئے گی۔ اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تمام انتظامات حکومت کو اپنے خرچ پر کرنے چاہئے جس کی ذمہ داری خود حکومت نے لی ہے ۔ اقامتی ا سکولس کو کسی یتیم خانہ کی طرح تصور نہ کیا جائے۔ اقامتی اسکولس میں زکوٰۃ کی رقم سے اشیاء کی فراہمی کے نتیجہ میں زکوٰۃ کا مصرف بھی پورا نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال اقامتی اسکولس کیلئے 350 کروڑ روپئے مختص کئے، جس میں سے 175 کروڑ تاحال جاری کئے جاچکے ہیں۔ حکومت 120 اقامتی اسکولوں پر 3,900 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ سوسائٹی کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ اولیائے طلبہ کی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے زکوٰۃ کی رقم سے سہولتوں کی فراہمی سے گریز کریں۔

TOPPOPULARRECENT