Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس کو مزید مستحکم بنانے کی ہدایت

اقلیتی اقامتی اسکولس کو مزید مستحکم بنانے کی ہدایت

حکومت کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، وزیر تعلیم کڈیم سری ہری کا خطاب
حیدرآباد ۔ 21۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے آج اقامتی اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے علاوہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی محکمہ جات کے عہدیدار بھی شریک ہوئے ۔ تمام طبقات کیلئے کے سی آر حکومت نے اقامتی اسکولوں کا قیام عمل میں لایا ہے جہاں کارپوریٹ طرز کی تعلیم مفت فراہم کی جائے گی ۔ اقلیتی اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کی عاجلانہ تکمیل کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اسکولوں کی کارکردگی پر نظر رکھی جاسکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ انجام دیئے جائیں گے۔ بعد میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ اجلاس نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم اس میں مزید بہتری کیلئے تجاویز پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 204 اسکولوں کے منجملہ 22 اسکول ایسے ہیں جن کی عمارتیں بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، لہذا ان کیلئے نئی عمارتوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے ان اسکولوں کیلئے اراضی الاٹ کردی ہے اور فنڈس کی اجرائی کے ساتھ ہی تعمیری کام شروع ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور معیاری تعلیم پر توجہ دی جائے گی۔ محمود علی نے بتایا کہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں جملہ نشستوںکی تعداد 52000 ہے جن میں 4000 سے زائد نشستیں ابھی بھی مخلوعہ ہیں۔ ان کی بھرتی کے سلسلہ میں عہدیداروں کو توجہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ایسے طلبہ جو اردو میڈیم سے تعلق رکھتے ہیں ، انہیں ٹیوشن کا اہتمام کرتے ہوئے اسکول میں داخلہ دیا جائے گا تاکہ وہ انگلش میڈیم میں بآسانی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ایسے طلبہ جو سکنڈ لینگویج کے طور پر اردو لینا چاہتے ہیں ، ان کیلئے سہولت حاصل رہے گی۔ محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے اقامتی اسکولس کی منفرد اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چیف منسٹر کے خواب کو پورا کریں اور اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 204 اسکولوں کے کامیاب تجربہ کے ذریعہ اقلیتوں کے تعلیمی مستقبل کو تابناک بنایا جاسکتا ہے۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اسکولوں کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں ۔ خاص طور پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور تعلیمی معیار کی برقراری پر توجہ دی جائے ۔ اقامتی اسکولوں کا حال سرکاری مدارس کی طرح نہ کیا جائے جہاں عوام اپنے بچوں کو داخلہ دلانے سے کترا رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT