Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد 160 ہونی چاہئے

اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد 160 ہونی چاہئے

حیدرآباد میں مزید 12 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم ہوں گے، چیف منسٹر کا بیان
حیدرآباد ۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اگلے تعلیمی سال کے آغاز تک تلنگانہ میں 160 اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ ان میں موجودہ 71 اقلیتی اقامتی اسکولس شامل ہیں جو پہلے ہی قائم کئے جاچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ نظام آباد، کریم نگر، ورنگل، ہنمکنڈہ، کھمم، نلگنڈہ، محبوب نگر اور عادل آباد ٹاؤنس میں ہر جگہ 6 اقلیتی اقامتی اسکولس موجود ہونا چاہئے۔ تین لڑکیوں اور تین لڑکوں کیلئے ہونا چاہئے۔ حیدرآباد میں موجودہ 8 اقلیتی اقامتی اسکولس کے علاوہ 12 مزید اقلیتی اقامتی اسکولس کھولے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد کے ہر اسمبلی حلقہ میں بھلے ہی وہاں مسلم آبادی زیادہ نہ ہو کم از کم ایک اقلیتی اقامتی اسکولس قائم ہونا چاہئے۔ چیف منسٹر نے اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام اور اس کے انتظام پر کل جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں اقلیتی بہبود محکمہ اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اقلیتی ا قامتی اسکولس میں موجود طلبہ کو بہتر تعلیم خوراک اور رہائش کی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئے۔ چندرشیکھر راؤ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ درکار فنڈس تخمینے تیار کریں۔ اسی طرح اگلے سال کے بجٹ میں رقومات مختص کی جاسکتی ہیں۔ سوشیل ویلفیر اقامتی اسکولس کی کارکردگی اور نتائج پر اظہاراطمینان کرتے ہوئے چیف منسٹر نے خواہش ظاہر کی کہ اقلیتی اقامتی اسکولس کی کارکردگی بھی ایسی ہی ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT