Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس کے آغاز میں دشواری ممکن

اقلیتی اقامتی اسکولس کے آغاز میں دشواری ممکن

سوسائٹی کی تشکیل لیکن اساتذہ کے تقررات میں تاخیر
حیدرآباد۔/7 مئی، ( سیاست نیوز) حکومت نے جون سے اقلیتوں کیلئے 71 اقامتی اسکولس کے آغاز کا اعلان کیا ہے اور اس کی نگرانی کیلئے علحدہ سوسائٹی تشکیل دی گئی۔ لیکن اسکولس میں اساتذہ کے تقررات میں تاخیرکے سبب تعلیم کے آغاز میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے عہدیداروں نے ہنگامی منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت محکمہ تعلیم سے اساتذہ کو ڈیپوٹیشن پر حاصل کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ریٹائرڈ ٹیچرس کی خدمات بھی کنٹراکٹ بنیاد پر حاصل کی جائیں گی۔ حکومت نے 650 اساتذہ کے تقررات کے سلسلہ میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ہے تاہم پبلک سرویس کمیشن زراعت اور پولیس سے متعلق اداروں میں تقررات کے عمل میں مصروف ہے جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک اقلیتی اقامتی اسکولس کے تقررات کی تکمیل ممکن نہیں۔ پبلک سرویس کمیشن کو اعلامیہ کی اجرائی کے بعد سے تقررات کیلئے کم از کم 45دن کا وقت چاہیئے۔ کمیشن نے ابھی تک اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے جس کے باعث اسکولوں کے آغاز میں تاخیر کا امکان ہے۔ محکمہ تعلیم سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ انگلش میڈیم کے اساتذہ کو ڈیپوٹیشن پر فراہم کرے تاہم بیک وقت تقریباً 700 اساتذہ کا حصول آسان نہیں ہے۔ سرکاری اسکولوں میں انگلش میڈیم اسکولس کا وجود نہیں ہے پھر کس طرح محکمہ تعلیم انگلش میڈیم کے اساتذہ کو اقلیتی اقامتی اسکولس کیلئے فراہم کرے گا۔ اس بات کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ سوشیل ویلفیر اقامتی اسکولس کی سوسائٹی سے اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں لیکن وہاں بھی اساتذہ کی تعداد ضرورت کے مطابق ہی ہے۔ ان حالات میں اقلیتی اقامتی اسکولس کی سوسائٹی کیلئے انگلش میڈیم اساتذہ کا حصول کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اگر ریٹائرڈ ٹیچرس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تو ان کا درکار معیار کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔ دوسری طرف جون سے اسکولوں کا آغاز ہے تاہم ابھی تک آن لائن رجسٹریشن کا رجحان اس قدر حوصلہ افزاء نہیں جیسا ہونا چاہیئے۔ اس کے لئے اقلیتی رضاکارانہ تنظیموں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ سوسائٹی کیلئے اب تک حیدرآباد میں علحدہ آفس قائم نہیں کیا گیا جس کے سبب سوسائٹی حج ہاوز سے کام کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ علحدہ آفس کیلئے جگہ کی تلاش جاری ہے تاہم کرایہ کے تعین کے مسئلہ پر مالکین سے اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ علحدہ آفس کے قیام کی صورت میں باقاعدہ سوسائٹی کا علحدہ لیٹر ہیڈ معہ اڈریس شائع کیا جاسکتا ہے۔ اسکولوں کے آغاز کے فیصلہ کے وقت طئے کیا گیا تھا کہ ہر موضع میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلائی جائے گی۔ ہر مسجد میں پوسٹرس آویزاں کئے جائیں گے جو تینوں زبانوں میں رہیں گے۔ سوسائٹی ہر ضلع میں تشہیری مہم میں ناکام ہوچکی ہے۔ خود حیدرآباد میں ابھی تک تشہیری مہم اس انداز میں شروع نہیں ہوئی جس طرح  ضروری ہے۔ ہر ضلع میں تشہیری مہم کیلئے علحدہ گاڑیاں تیار کی گئیں لیکن وہ کہاں جارہی ہیں اس کا کسی کو علم نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بڑے پیمانے پر تشہیری میٹریل تیار کرتے ہوئے ہر ضلع کو روانہ کیا جارہا ہے اور آئندہ ہفتہ سے پوسٹرس اور پمفلیٹس ہر ضلع میں عوام تک پہنچ جائیں گے۔ عمارتوں کے انتخاب کے سلسلہ میں بھی سوسائٹی کو بہت دشواریوں کا سامنا ہے۔ اضلاع میں تقریباً 50 عمارتیں منتخب کی گئیں لیکن کئی عمارتوں کے مالکین سے معاہدہ ابھی باقی ہے۔ حیدرآباد میں 8 اسکولس کے قیام کا منصوبہ ہے لیکن ابھی تک عمارتوں کا انتخاب نہیں ہوسکا۔

TOPPOPULARRECENT