Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس کے تین مراحل میں آغاز کا فیصلہ : اے کے خان

اقلیتی اقامتی اسکولس کے تین مراحل میں آغاز کا فیصلہ : اے کے خان

19 اسکولس کی پہلے مرحلہ میں 27 جون سے کشادگی کیلئے نشاندہی ۔ 11 جولائی سے تمام اسکولس میں باقاعدہ تعلیم کاآغاز
حیدرآباد۔/21جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی اقامتی اسکولس کے تین مرحلوں میں آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں جو اسکول سوسائٹی کے نائب صدر نشین ہیں ’’سیاست‘‘ کو بتایا کہ 27 جون سے پہلے مرحلہ کے اسکولس کا آغاز کردیا جائے گا اور اس کیلئے 19اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسرے مرحلہ میں مزید 19 اور باقی 33 اسکولوں کا 30 جون کو آغاز کردیا جائے گا۔2 جولائی تا 10 جولائی اسکولوں کو رمضان اور عیدالفطر کی چھٹیاں رہیں گی اور 11 جولائی سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 51 اسکول بلڈنگس مکمل انفراسٹرکچر کے ساتھ تیار ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی سربراہی میں تاخیر کے سبب اسکولوں کا آغاز ممکن نہیں ہوسکا۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات مکمل کرلئے گئے ہیں اور اسکول عمارتوں کی تزئین نو کا کام بھی تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ اے کے خاں کے مطابق طلباء کیلئے ضروری انفراسٹرکچر جیسے بیڈس اور کلاسیس میں فرنیچر کی سربراہی آخری مرحلہ میں ہے۔ جن 19 اسکولوں میں یہ کام مکمل ہوچکا ہے اُن کا 27 جون سے آغاز کیا جارہا ہے۔ اے کے خاں نے کہا کہ سوسائٹی اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ مکمل انفراسٹرکچر کے بغیر کسی اسکول کا آغاز نہ ہو۔ اسکولوں کی افتتاحی تقریب میں متعلقہ وزرا، عوامی نمائندوں و اعلیٰ حکام کو مدعو کیا جائیگا۔ انہوں نے اسکولوں کے آغاز کی صورتحال سے واقف کرانے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی اور ان سے کسی ایک اسکول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی خواہش کی ۔ توقع ہے کہ چیف منسٹر اپنے اسمبلی حلقہ گجویل یا پھر شہر کے کسی اسکول کے آغاز کے موقع پر شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں کارپوریٹ طرز کی تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے پرنسپالس اور اساتذہ کو باقاعدہ تربیت دی جارہی ہے اور تعلیمی معیار کی برقراری اولین ترجیح رہے گی۔ اسکولوں میں اردو، تلگو میڈیم کے طلبہ کے ساتھ انگلش میڈیم طلبہ کے معیار میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے اے کے خاں نے کہا کہ ابتدائی 4 ماہ تک برج کورس کے ذریعہ طلبہ کے معیار کو یکساں بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ کے معیار میں یکسانیت کیلئے ابتدائی تین چار ماہ برج کورسیس چلائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سوسائٹی نے اساتذہ کیلئے پہلے مرحلہ کی تربیتی کلاسیس حیدرآباد میں منعقد کی تھی اور اب دوسرے مرحلہ کے تحت 22، 23 اور 24 جون کو ٹیچرس امپاورمنٹ پروگرام حیدرآباد میں منعقد کیا جائے گا۔ 22جون کو حیدرآباد، رنگاریڈی اور میدک کے ٹیچرس کی ٹریننگ ہوگی جبکہ 23 جون کو محبوب نگر، ورنگل، نلگنڈہ، کھمم اور 24جون کو عادل آباد، نظام آباد اور کریم نگر اضلاع کے اساتذہ کیلئے ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس ٹریننگ میں ٹیچرس کو انگریزی میں بہتر مہارت اور اقامتی اسکولس کے طلبہ میں تعلیم کا جذبہ پیدا کرنے کی ٹریننگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے ماہرین لکچرس دیں گے۔ پہلے بیاچ میں 28اسکولوں کے 196 اساتذہ، دوسرے بیاچ میں 22اسکولوں کے 154اساتذہ اور تیسرے مرحلہ میں 21 اسکولوں کے 147 اساتذہ حصہ لیں گے۔ اے کے خاں نے کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ اساتذہ کے تقررات کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مستقل جائیدادوں پر تقررات کے بعد بھی اساتذہ کیلئے ٹریننگ کلاسیس رکھی جائیں گی تاکہ انہیں مکمل مہارت کے ساتھ اسکولوں میں مامور کیا جائے۔ اے کے خاں نے کہا کہ پہلے سال کے تجربات کی روشنی میں آئندہ سال سے مسائل کی بروقت یکسوئی کرلی جائے گی اور انہیں امید ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے اسکولوں کا آغاز کسی رکاوٹ کے بغیر ہوپائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں تمام سہولتیں حکومت کی جانب سے فراہم کی جارہی ہیں جن میں مفت قیام و طعام کے علاوہ کتابیں اور یونیفارم شامل ہیں۔ لڑکیوں کے ہاسٹلس کی سیکوریٹی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ حکومت اقامتی اسکول کے ہر طالب علم پر 80 ہزار روپئے خرچ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں داخلہ کیلئے اقلیتوں میں کافی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے اور ابھی بھی لوگ بچوں کے داخلوں کیلئے رجوع ہورہے ہیں۔ اے کے خاں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا خاتمہ حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔ اے کے خاں نے بتایا کہ بعض اسکولوں میں جو طلبہ حاضر نہیں ہوئے ان کی جگہ ویٹنگ لسٹ سے طلبہ کا انتخاب کیا جائیگا۔ اے کے خاں نے بتایا کہ جاریہ سال داخلے کیلئے زبردست رد عمل کو دیکھتے ہوئے آئندہ سال سے قرعہ اندازی کے بجائے اسکریننگ ٹسٹ کے ذریعہ داخلوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT