Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس کے طلبہ کو کھانے کے لیے دشواریوں کا سامنا

اقلیتی اقامتی اسکولس کے طلبہ کو کھانے کے لیے دشواریوں کا سامنا

کنٹراکٹر کی اسٹاف کو تنخواہ کی عدم ادائیگی پر ذمہ داری سے انکار ، غذا فراہم کرنے والے ادارہ سے معاہدہ منسوخ
حیدرآباد ۔ 5۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے اقلیتی اقامتی اسکولوں میں گزشتہ دنوں طلبہ کو کھانے کے سلسلہ میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کنٹراکٹر کو پکوان کی خدمات کی ذمہ داری دی گئی تھی، اس نے اپنے اسٹاف کو تنخواہیں ادا نہیں کی جس کے باعث پکوان کے اسٹاف نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے انکار کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی اسکولوں میں طلبہ کو کھانے کیلئے بروقت انتظام نہ ہوسکا۔ اس سلسلہ میں اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کو مختلف اضلاع سے شکایات موصول ہوئیں جس کے بعد سوسائٹی نے مذکورہ ادارہ سے اپنا معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے پکوان کی ذمہ داری متعلقہ اسکولس کے پرنسپلس کو تفویض کی ہے۔ سکریٹری اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ نے مسرس سہارا اسوسی ایٹس سے کئے گئے معاہدہ کو منسوخ کرتے ہوئے احکامات جاری کئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سہارا اسوسی ایٹس کو جون میں معاہدہ کے ذریعہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ 204 اسکولس اور 2 جونیئر کالجس میں طلبہ کیلئے پکوان کا اسٹاف فراہم کریں۔ اس ادارہ کو جون اور جولائی کے سرویس چارجس ادا کردئے گئے لیکن اس کمپنی نے پکوان کے اسٹاف کو تنخواہیں ادا نہیں کی جس کے باعث اسکولوں میں پکوان کی خدمات اچانک متاثر ہوگئیں۔ متعلقہ پرنسپلس نے عارضی انتظامات کی کوشش کی لیکن تقریباً تین دن تک طلبہ کو مینو کے مطابق تین وقت کا کھانا فراہم نہیں کیا جاسکا۔ سوسائٹی کو اس بات کی بھی شکایت ملی کہ مسرس سہارا اسوسی ایٹس کا رویہ اپنی ذمہ داری کے بارے میں غیر سنجیدہ رہا ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سکریٹری سوسائٹی نے معاہدہ کو منسوخ کردیا اور متعلقہ پرنسپلس کو ہدایت دی کہ موجودہ پکوان کے اسٹاف کے ذریعہ روزانہ مینو کے مطابق پکوان کو یقینی بنائیں اور طلبہ کو مقررہ وقت پر معیاری کھانا سربراہ کیا جائے۔ اس فیصلہ سے پکوان کے اسٹاف کا فائدہ ہوگا کیونکہ انہیں ہر ماہ سوسائٹی کی جانب سے مکمل تنخواہ ادا کی جائے گی جبکہ خانگی ادارہ کی جانب سے تعطیلات کی تنخواہ ادا نہیں کی جاتی ہے ۔ سوسائٹی نے تمام اسکولوں کو سرکولر جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ پکوان کیلئے طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے اسٹاف کو مقرر کریں۔ 160 طلبہ کی صورت میں ایک باورچی اور دو ہیلپرس کا انتظام کیا جائے ۔ 240 طلبہ کی صورت میں ایک باورچی اور تین ہیلپرس کی خدمات حاصل کی جائیں۔ 320 طلبہ والے اسکولس اور اقامتی جونیئر کالجس کے لئے فی کس دو باورچی اور تین ہیلپرس کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔ باورچی کو ماہانہ 8000 اور ہیلپرس کو 5000 روپئے ادا کئے جائیں گے ۔ ہر ماہ کی 25 تاریخ تک تنخواہوں سے متعلق بل ہیڈ آفس کو روانہ کیا جائے اور یہاں سے پرنسپلس کو تنخواہوں کی رقم جاری کی جائے گی جو کچن اسٹاف کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ادا ہوگی۔ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی نے بعض اسکولوں میں پکوان کے سلسلہ میں دشواری اور طلبہ کو مشکلات کا اعتراف کیا ۔ تاہم کہا کہ بروقت کارروائی کے ذریعہ صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 204 اسکولس اور 2 جونیئر کالجس میں جملہ 48000 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ سوسائٹی کی جانب سے جو تغذیہ بخش مینو طئے کیا گیا ہے ، ان میں روزانہ دودھ معہ بوسٹ ، ناشتہ میں اڈلی ، پوری ، لنچ میں روزانہ انڈہ ، چاول دال ، دہی اور ترکاری کا سالن ۔ شام 4 بجے اسنیاکس اور ڈنر میں چاول ، ترکاری اور روزانہ تازہ پھل دیئے جائیں گے ۔ ہفتہ میں ایک بار چکن سربراہ کیا جائے گا۔ شفیع اللہ نے بتایا کہ جن اسکولوں میں مقررہ مینو کی عدم سربراہی کی شکایات مل رہی ہیں، ان کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ گزشتہ دنوں نرسا پور کے اسکول کے بارے میں بعض شکایات موصول ہوئی تھیں جس پر سوسائٹی کے عہدیداروں نے پرنسپل اور دیگر اسٹاف کو طلب کرتے ہوئے معاملہ کی یکسوئی کردی ۔

TOPPOPULARRECENT