Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولوں کی کارکردگی پر ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا اظہار اطمینان

اقلیتی اقامتی اسکولوں کی کارکردگی پر ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا اظہار اطمینان

تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے معیارات کو برقرار رکھنے عہدیداران کو مشورہ
حیدرآباد ۔ 10۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کے طئے شدہ معیارات کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے منفرد اسکیم شروع کی ہے جسے کامیابی سے ہمکنار کرنا ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں اسکولوں میں طلبہ کی تعداد اور سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ میں اقامتی اسکولس کے قیام کی منفرد اسکیم نے ملک بھر میں تلنگانہ کو سرفہرست کردیا ہے ۔ دیگر ریاستوں کی جانب سے اس اسکیم کو اختیار کرنے کیلئے تفصیلات حاصل کی جارہی ہے ۔ محمود علی نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اسکولوں میں طلبہ کو تعلیم سے رغبت برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دیں تاکہ طلبہ درمیان میں تعلیم ترک نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ 204 اسکولوں میں جو نشستیں مخلوعہ ہیں ، ان پر داخلوں کیلئے توجہ دی جانی چاہئے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے معیاری تعلیم کی برقراری کیلئے اساتذہ کی کار کر دگی پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا۔ اجلاس میں حکومت کے مشیر اے کے خاں ، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین اکبر حسین شریک تھے۔ عہدیداروں نے ڈپٹی چیف منسٹر کو بتایا کہ اسکولوں میں پکوان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور طلبہ کو مقررہ وقت پر کھانا سربراہ کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کیٹرنگ کے کنٹراکٹ کی منسوخی اور اس کی وجوہات کے بارے میں استفسار کیا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ پکوان کے انتظامات ٹنڈر کی بنیاد پر کنٹراکٹر کو حوالے کئے گئے تھے لیکن کنٹراکٹر مختلف بے قاعدگیوں جیسے پکوان اسٹاف کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کم تنخواہوں کی ادائیگی میں ملوث رہے جس کے باعث پکوان کی سر گرمیاں متاثر ہوئیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ کنٹراکٹ کو منسوخ کرتے ہوئے موجودہ پکوان اسٹاف کو سوسائٹی کی جانب سے راست تنحواہیں ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پرنسپلس کو تنخواہوں کا فنڈ راست طور پر جاری کیا جارہا ہے ۔ عہدیداروں نے کہا کہ پکوان اسٹاف اس فیصلہ سے مطمئن ہیں کیونکہ انہیں مکمل تنخواہ حاصل ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی میں فی الوقت ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف اوٹ سورسنگ بنیاد پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ مستقل اسٹاف کے تقرر کی کارروائی کی جارہی ہے۔ سکریٹری سوسائٹی نے سابقہ 10 اضلاع کے اعتبار سے 10 ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹرس کے تقرر کی تجویز پیش کی جو ہیڈ آفس اور اسکولوں کے درمیان نوڈل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے ۔ اس تقرر سے اسکولوں کی کارکردگی پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔ سوسائٹی کے ہیڈ آفس میں اسٹاف کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ فی الوقت 39 ملازمین برسر خدمت ہیں ، جن میں 20 مستقل اور 19 اوٹ سورسنگ اسٹاف ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ان دونوں تجاویز کی منظوری چیف منسٹر سے حاصل کرنے کا تیقن دیا۔ اقامتی اسکولوں میں دو طلبہ کی خودکشی کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دونوں طلبہ نے شخصی وجوہات کی بنیاد پر انتہائی اقدام کیا اور انہیں اسکول انتظامیہ سے کوئی شکایت نہیں رہی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ تعطیلات سے اسکول واپس ہونے والے طلبہ کا بیاگیج کی تلاشی لی جائے تاکہ اس میں کوئی زہریلی شئے موجود نہ ہو۔ اس تلاشی کے ذریعہ انتہائی اقدام کے واقعات کو روکا جاسکتا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 51,000 نشستوں کے منجملہ 48,000 نشستیں پُر ہوچکی ہیں۔ محمود علی نے بتایا کہ 45 اسکولوں کیلئے نئی عمارتوں کی تعمیر کے سلسلہ میں اراضی الاٹ کردی گئی ۔ انہوں نے اراضی کی حفاظت کیلئے کمپاؤنڈ وال کی تعمیر کی ہدایت دی۔ ہر اسکول کیلئے 2 تا 5 ایکر اراضی فراہم کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے 12 اسکولوں کیلئے فی کس 20 کروڑ روپئے منظور کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT