Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولوں کے عارضی ملازمین تنخواہوں سے محروم

اقلیتی اقامتی اسکولوں کے عارضی ملازمین تنخواہوں سے محروم

پکوان اور کیٹرنگ انتظامات کے لیے خانگی ادارہ سے معاہدہ ، کنٹراکٹر پر خلاف ورزی کا الزام
حیدرآباد۔13۔ فروری (سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے تحت چلنے والے اسکولوں میں کیٹرنگ شعبہ کے عارضی ملازمین گزشتہ چار ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سوسائٹی کے دفتر پہنچ کر احتجاج درج کرایا لیکن حکام نے تنخواہوں کی ادائیگی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کیٹرنگ کے کنٹراکٹر کو ذمہ دار قرار دیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقامتی اسکول سوسائٹی نے تمام 204 اسکولوں میں پکوان اور کیٹرنگ کے انتظامات کے سلسلہ میں ایک خانگی ادارہ سے معاہدہ کیا تھا ۔ کنٹراکٹر نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور اسکولوں میں طلبہ کو معیاری کھانا فراہم کرنے میں ناکام رہا ۔ معاہدہ کی خلاف ورزی پر سوسائٹی نے معاہدہ کو منسوخ کرتے ہوئے کیٹرنگ کے انتظامات اپنی نگرانی میں لے لئے ۔ کنٹراکٹر نے جن عارضی ملازمین کی خدمات حاصل کی تھی، انہیں تنخواہ ادا نہیں کی گئی اور 4 ماہ سے تنخواہ کیلئے سوسائٹی کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا ہے۔ ملازمین نے شکایت کی کہ وہ سوسائٹی کے عہدیداروںکی بے اعتنائی کے سبب معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ احتجاج کے باوجود انہیں کوئی تیقن نہیں دیا گیا ۔ سوسائٹی کے ذمہ دار نے بتایا کہ کیٹرنگ کنٹراکٹر کو 71 لاکھ روپئے ادا کئے گئے اور اس نے ملازمین کو تنخواہ ادا نہیں کی۔ سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ نے کہا کہ کنٹراکٹر نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی جس کے باعث ایک ماہ میں معاہدہ کو منسوخ کرنا پڑا۔ اسکولوں سے کنٹراکٹر کی خدمات کے بارے میں شکایات موصول ہورہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کیٹرنگ کا اپنے طور پر انتظام کر رہی ہے۔ احتجاجی عارضی ملازمین کے مسئلہ کی یکسوئی کے سلسلہ میں سوسائٹی کے صدرنشین کو مداخلت کرنی چاہئے ۔ غریب ملازمین 4 ماہ سے ملازمت اور تنخواہوں سے محروم ہے۔ انہیں باز مامور کرتے ہوئے معاشی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کیلئے حکومت نے قابل لحاظ بجٹ جاری کیا ہے ۔ جہاں تک خرچ کا سوال ہے، کئی ایسے امور میں بھاری رقم خرچ کرنے کی شکایت ملی ہے، جس سے طلبہ کی افادیت کا کوئی تعلق نہیں۔ لہذا سوسائٹی کے حکام کو غریب ملازمین کے بارے میں ہمدردانہ غور کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT