Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکول ، ریاستی حکومت کی بھول

اقلیتی اقامتی اسکول ، ریاستی حکومت کی بھول

مسلمانوں کے تحفظات سے توجہ ہٹانے کی منظم سازش
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاستی حکومت نے شہر حیدرآباد میں اقلیتی اقامتی مدارس کے 8 سنٹرس قائم کئے جن میں صرف دو اقامتی اقلیتی مدارس بہادر پورہ گرلس اسکول اور آصف نگر وانی اسکول میں سہولتیں ہیں جب کہ ماباقی چھ سنٹرس کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ چند سنٹرس کے لیے عمارتوں کا انتخاب غیر موزوں ہے ۔ کہیں کہیں تو شاپنگ کامپلکس اور کہیں ریسیڈنشیل رومس میں ہی سنٹرس قائم کئے گئے ہیں ۔ ایک سنٹر میں پرنسپال کا چیمبر شٹر میں بعض سنٹرس میں کلاس رومس بھی شٹرس میں رکھے گئے ہیں جہاں تازہ ہوا دستیاب نہیں ہوتی دم گھٹنے لگتا ہے حیدرآباد تمام سنٹرس میں بچوں کے لیے ورزش کا کمرہ اور کھیل کے میدان کا فقدان ہے ۔ اقلیتی اقامتی مدارس میں دینیات پڑھانے کا بہانہ کر کے اولیائے طلباء کو گمراہ کیا گیا ہے ۔ ان مدارس میں نہ تو دینی تعلیم کا نظم ہے اور نہ ہی دینیات پڑھانے کے لیے کوئی معلم کا تقرر کیا گیا ہے ۔ اولیائے طلباء یہ تماشہ دیکھ کر انگشت بہ دنداں ہیں کہ ریاستی حکومت نونہالوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑہ کررہی ہے ۔ اولیائے طلباء اپنے نونہالوں سے ملاقات کرنے آرہے ہیں اور دینی تعلیم کا انتظام نہ ہونے پر مایوس دکھائی دے رہے ہیں ۔ اولیائے طلباء کے کہنے کے مطابق ان کے بچے انگریزی میڈیم ضرور پڑھ رہے تھے لیکن روزانہ گھر میں دینی تعلیم بھی خانگی معلم کے ذریعہ حاصل کررہے تھے ۔ اقلیتی اقامتی مدارس میں انہیں شریک کروانے سے وہ دینی تعلیم سے محروم ہوگئے ۔ حکومت نے جو ٹائم ٹیبل تیار کیا ہے اس میں دینیات کا ہی ذکر ہے اور نہ ہی دینی تعلیم کے لیے معلم کا تقرر عمل میں آیا ۔ اولیائے طلباء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتی اقامتی مدارس میں اقلیتی اساتذہ کا تقرر ہونا چاہئے ۔ حکومت کے لائحہ عمل کے اعتبار سے اقلیتی اقامتی مدارس کے وارڈن کے لیے عالمہ کا تقرر کیا جائے گا جو روزانہ سوتے جاگتے اور کھاتے وقت طلباء کو دعائیں پڑھائیں گی ۔ لیکن عالمہ کا تقرر بھی نہیں کیا گیا حالانکہ وارڈن کی تنخواہ اساتذہ سے بھی زیادہ ہے ۔ اقلیتی اقامتی مدارس میں کھیل کود کی تربیت دینے کے لیے بھی PET کا تقرر بھی نہایت ہی ضروری ہے کیوں کہ گیمس اور اسپورٹس ہی طلباء کی صحت کے ضامن ہوتے ہیں ۔ طلباء کی عدم سہولتوں کے تناظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ چیف منسٹر مسلمانوں کی 12 فیصد تحفظات کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے اقلیتی اقامتی مدارس کا قیام عمل میں لایا اور ناکام رہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT