Tuesday , October 16 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکول میں ناقص انتظامات پر اقلیتی کمیشن کی برہمی

اقلیتی اقامتی اسکول میں ناقص انتظامات پر اقلیتی کمیشن کی برہمی

طالبات کی زائد تعداد بتاکر بدعنوانیاں ، غیر معیاری کھانااور بنیادی سہولتوں سے محرومی، قمرالدین اور ارکان نے ورنگل اسکول کا معائنہ کیا
حیدرآباد۔15۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن نے گریٹر ورنگل کے تحت اقلیتی اقامتی اسکول فار گرلز کا اچانک دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ صدرنشین کمیشن محمد قمرالدین ، نائب صدرنشین بی شنکر لوکے کے علاوہ کمیشن کے ارکان ارشد علی خاں محمد عبدالعظیم صدیقی ، ڈاکٹر ودیا شرونتی ، جی نوریا ، بی کٹیا اور سریندر سنگھ اس دورہ میں شریک تھے۔ اقلیتی کمیشن کو اس وقت حیرانی ہوئی جب اقامتی اسکول میں انتظامات انتہائی ناقص تھے ۔ طالبات کیلئے بنیادی سہولتوں کی کمی اور ناقص غذا فراہم کرنے پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کیا۔ کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے کچن کا معائنہ کرتے ہوئے پکوان کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے غیر معیاری پکوان اور پانی کی طرح سالن فراہم کرنے پر اسکول کے پرنسپل اور وارڈن کی سرزنش کی ۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کے معائنہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کس طرح طالبات کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ بنیادی سہولتوں کی کمی کے علاوہ معیار تعلیم بھی کارپوریٹ طرز پر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف اقامتی اسکولوں کیلئے بھاری بجٹ خرچ کر رہی تو دوسری طرف اسکول کے ذمہ دار بجٹ کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ کمیشن کے دورہ کے موقع اسکول میں 320 طالبات کی حاضری بتائی گئی لیکن جب حقیقت معلوم کی گئی تو 276 طالبات ہی اور 44 طالبات کے نام پر زائد فنڈ اور میٹریل حاصل کرتے ہوئے اسکول کے ذمہ دار ہڑپ رہے تھے۔صدرنشین قمرالدین نے ذمہ داروں کو انتباہ دیا کہ وہ حکومت کی بدنامی کا سبب بننے والے کاموں سے گریز کریں ۔ اسکول میں ناقص کھانے کے علاوہ لڑکیوں کے لئے صاف ستھرے باتھ روم بھی دستیاب نہیں ہیں۔ حکومت ہر طالب علم پر ایک لاکھ سے زائد خرچ کر رہی ہے لیکن اچانک معائنہ سے پتہ چلا کہ اقامتی اسکول کے حالات انتہائی ابتر ہے اور اسکول کے ذ مہ دار بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔ طالبات سے بات چیت کرنے پر پتہ چلا کہ اساتذہ کی توجہ تعلیم کی طرف نہیں ہے اور قابل اور اہل اساتذہ دستیاب نہیں۔ کمیشن کے دورہ سے قبل طالبات کو جو ٹفن دیا گیا تھا وہ ناقص تھا اور مینو کے مطابق دودھ اور انڈا سربراہ نہیں کیا گیا ۔ وارڈن ، پرنسپل اور دیگر ذمہ داروں کے خوف سے طالبات کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے تھے ۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے ۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ کو بھی حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔ صدرنشین نے کہا کہ اسکول میں طالبات کے ساتھ سلوک دیکھ کر انہیں کافی دکھ ہوا ہے۔ حکومت نے جس مقصد سے اقامتی اسکول قائم کئے ہیں، عہدیدار اس کے برخلاف کام کر رہے ہیں۔ صدرنشین نے بتایا کہ وہ شہر اور اضلاع میں اقامتی اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے اچانک دورے کریں گے۔ ورنگل کے مقامی عہدیداروں نے صدرنشین کو تیقن دیا کہ وہ اسکول کی ابتر حالات سے ضلع کلکٹر کو واقف کرائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT