Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکول کے طلبہ کا کوہ پیمائی کا بہترین مظاہرہ

اقلیتی اقامتی اسکول کے طلبہ کا کوہ پیمائی کا بہترین مظاہرہ

آفریقی ملک تنزانیہ میں کیلی منجارو پہاڑ کی چوٹی کو بآسانی سر کرلیا ۔ ہندوستان کا قومی پرچم لہرایا
حیدرآباد۔27 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے چار مختلف اسکولوں سے وابستہ طلبہ نے افریقی ملک تنزانیہ میں کوہ پیمائی کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے کیلی منجارو پہاڑ کی چوٹی کو بآسانی سرکرلیا اور افریقہ کی اونچی پہاڑیوں پر ہندوستان کا قومی پرچم اور اقامتی اسکول سوسائٹی کا پرچم لہرایا۔ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ نے کہا کہ سوسائٹی کے لیے یہ فخر کے لمحات ہیں کہ طلبہ نے کامیابی سے کوہ پیمائی مکمل کرتے ہوئے سوسائٹی کا نام روشن کیا ہے۔ وہ طلبہ اور ان کے ارکان خاندان کو شاندار مظاہرے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کی کامیابیوں میں یہ ایک اضافہ ہے۔ ان طلبہ کا اگلا نشانہ مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سرکرنا ہے جو دنیا کی بلند ترین پہاڑ کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ شفیع اللہ کے مطابق اقامتی اسکول سنگاریڈی بوائس کے 9 ویں جماعت کے طالب علم ڈی بھاسکر، اقامتی اسکول ورنگل بوائس کے 8 ویں جماعت کے طالب علم ایس کے فیروز، اقامتی اسکول بودھن گرلز کی 8 ویں جماعت کی طالبہ سدرۃ المنتہی اور اقامتی اسکول گجویل گرلز کی 8 ویں جماعت کی طالبہ رانی کو اس مہم پر روانہ کیا گیا تھا۔ تنزانیہ میں 20 تا 25 اکٹوبر کوہ پیمائی کا یہ مقابلہ منعقد ہوا تھا۔چاروں طلبہ کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے اور ان میں موجود جذبے کو دیکھتے ہوئے اقامتی اسکول سوسائٹی نے بھونگیر کے پہاڑوں میں انہیں ٹریننگ دی تھی۔ کیلی منجارو کی تین چوٹیوں کی بلندی 5895 میٹر بتائی جاتی ہے۔ بی شفیع اللہ نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے 204 اقامتی اسکول اور دو اقامتی جونیئر کالجس کے قیام کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ان اداروں میں پسماندہ اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم، تغذیہ بخش غذا، ہمہ وقتی طبی سہولتیں اور ہاسٹل میں بہتر انفراسٹرکچر فراہم کیا گیا ہے۔ اسکولوں میں 48 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ کارپوریٹ طرز کی تعلیم اور دیگر سہولتیں مفت فراہم کی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT