Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی مدارس کے لیے عمارتوں کا انتخاب

اقلیتی اقامتی مدارس کے لیے عمارتوں کا انتخاب

تیزی سے اقدامات ، عہدیداروں کا دورہ اضلاع ،مقامات کی نشاندہی
حیدرآباد۔/5 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں جون سے قائم ہونے والے اقلیتی اقامتی مدارس کیلئے عمارتوں کے انتخاب کا کام تیزی سے جاری ہے۔ حکومت نے مختلف اقلیتی اداروں کے سربراہوں کو اضلاع میں عمارتوں کے انتخاب کی ذمہ داری دی ہے جس کے تحت اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ دو دن سے اضلاع کے دورہ پر ہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے ضلع ورنگل میں 5اقامتی اسکولس کے قیام کیلئے عمارتوں کا انتخاب کیا۔ انہوں نے متعلقہ منڈلوں کا دورہ کرتے ہوئے مقامی افراد سے ملاقات کی۔ اقلیتی بہبود اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے مقامی عہدیداروں کے ساتھ پروفیسر ایس اے شکور نے اقامتی اسکولس کیلئے موزوں عمارتوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے مقامی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو داخلہ دلا کر تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے بیک وقت 70 اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اسکولس انگلش میڈیم کے ہوں گے جس میں اردو بحیثیت لازمی زبان شامل رہے گی۔ پروفیسر ایس اے شکور نے گزشتہ ہفتہ کریم نگر کا دورہ کرتے ہوئے عمارتوں کا انتخاب کیا تھا۔ دوسری طرف چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ اسد اللہ نے نلگنڈہ اور کھمم میں عمارتوں کا انتخاب کیا۔ عمارتوں کے انتخاب میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ جون سے کرایہ کی بلڈنگ میں اسکول کا آغاز ہوگا اور اندرون دو سال نئی عمارتیں تعمیر کرلی جائیں گی۔ اسکولوں سے متعلق سوسائٹی کے نائب صدرنشین عبدالقیوم خاں ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو تمام عہدیداروں سے ربط میں ہیں اور عمارتوں کے انتخاب کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں۔ جاریہ ماہ کے اختتام تک تمام 70اسکولوں کی عمارتوں کا انتخاب کرلیا جائے گا اور آئندہ ماہ داخلوں کا عمل شروع ہوگا۔ حکومت نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن سے خواہش کی ہے کہ وہ پہلے مرحلہ میں 700رکنی اسٹاف کا تقرر عمل میں لائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اندرون ایک ماہ پبلک سرویس کمیشن تقررات کا عمل شروع کرے گا۔ حکومت نے جاریہ سال کے بجٹ میں اقامتی اسکولس کیلئے 350کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ پانچویں تا ساتویں جماعت سے اسکولوں کا آغاز ہوگا اور ہر جماعت کے دو سیکشن ہوں گے ہر سیکشن میں طلبہ کی تعداد 40رہے گی۔ مفت طعام و قیام کے علاوہ کتابیں بھی مفت فراہم کی جائیں گی۔ طالبات کیلئے علحدہ اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ حکومت  ہر طالب علم پر سالانہ 80 ہزار روپئے خرچ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT