Tuesday , November 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی امیدواروں کیلئے صد فیصد سبسیڈی اسکیم کا عنقریب اعلان

اقلیتی امیدواروں کیلئے صد فیصد سبسیڈی اسکیم کا عنقریب اعلان

معاشی پسماندگی دور کرنے اور فینانسرس کے چنگل سے آزاد کرانے حکومت کی کوشش
حیدرآباد۔13۔ فروری (سیاست نیوز) صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین نے کہا کہ اقلیتی امیدواروں کو صد فیصد سبسیڈی سے متعلق اسکیم کا جلد اعلان کیا جائے گا ۔ غریب مسلمانوں کو معاشی پسماندگی کے خاتمہ اور فینانسرس کے چنگل سے چھڑانے کیلئے حکومت نے بینکوں سے تعلق کے بغیر صد فیصد سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ۔ اس اسکیم کے تحت چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے بلا سودی قرض فراہم کیا جاتا ہے جو حکومت کی امداد کی شکل میں ہوگا۔ بعض اضلاع میں رضاکارانہ تنظیموں کے ذریعہ یہ اسکیم جاری ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن بڑے پیمانہ پر این جی اوز کی خدمات حاصل کرتے ہوئے مذکورہ اسکیم کو ریاست بھر میں وسعت دے گا۔ اکبر حسین نے بتایا کہ غریب اقلیتی افراد اسکیم کے تحت نہ صرف کاروبار شروع کرسکتے ہیں بلکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کے موقف میں ہوں گے۔ اسکیم کا مقصد مسلمانوں کی معاشی پسماندگی دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری میں کئی دشواریوں کا سامنا ہے۔ بینک قرض جاری کرنے کیلئے مختلف شرائط عائد کر رہے ہیں، جن کی تکمیل غریب مسلم خاندانوں سے ممکن نہیں۔ ایسے میں نئی اسکیم سے راست طور پر فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے ۔ اکبر حسین نے کہا کہ فینانسرس قرض پر 10 تا 12 فیصد سود حاصل کر رہے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں ہراساں کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو فینانسرس کے مظالم سے نجات دلانے کیلئے یہ اسکیم کارکرد ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت نئی اسکیمات کے آغاز کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ کے سی آر کو اقلیت دوست چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے اکبر حسین نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس اور تلگو دیشم نے اقلیتی بہبود کو فراموش کردیا تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں قابل لحاظ اضافہ کیا ہے۔ جاریہ سال اقلیتی بہبود کا بجٹ 1250 کروڑ ہے۔ آئندہ مالیاتی سال اس میں اضافہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے 204 اقامتی اسکول قائم کئے گئے جہاں کارپوریٹ طرز کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ ہر طالب علم پر حکومت ایک لاکھ سے زائد خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شادی مبارک اسکیم کی امدادی رقم کو 51 ہزار سے بڑھاکر 75 ہزار کیا گیا اور امید ہے کہ آئندہ مالیاتی سال یہ رقم ایک لاکھ 16 ہزار کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کے درخواستوں گزاروں کی جانب سے مکمل دستاویزات داخل کرنے چاہئے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ درخواست گزار تمام درکار دستاویزات داخل نہیں کرتے جس کے باعث رقم کی اجرائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ حکومت غریب لڑکی کی شادی سے قبل امدادی رقم جاری کرنے کے حق میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT