Monday , July 16 2018
Home / Top Stories / اقلیتی بجٹ میں 800 کروڑ کا اضافہ

اقلیتی بجٹ میں 800 کروڑ کا اضافہ

جاریہ سال 500 کروڑ کا خرچ باقی، اقلیتوں میں مایوسی

حیدرآباد ۔ 15 ۔مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بجٹ 2018-19 ء میں اقلیتی بہبود کیلئے 2000 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ جاریہ سال یعنی 2017-18 ء کے مقابلہ 800 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیر فینانس ای راجندر کی جانب سے تلنگانہ اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ کی تفصیلات کے مطابق کئی اقلیتی اسکیمات کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کے بجٹ کے خرچ کی رفتار حوصلہ افزاء نہیں رہی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے800 کروڑ روپئے جاری کئے جبکہ اقلیتی اداروں نے 700 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں ۔ انتخابات سے قبل حکومت کا یہ آخری بجٹ ہے، لہذا 800 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقلیتی اداروں کی جانب سے 2500 کروڑ کی تجاویز داخل کی گئی تھی۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں ناکامی کے پیش نظر اقلیتوں کی جانب سے 5000 کروڑ بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا لیکن حکومت نے 2000 کروڑ مختص کرتے ہوئے مایوس کردیا ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال کے مطابق بجٹ کی اجرائی کی صورتحال رہی تو 2000 کروڑ میں سے بمشکل نصف بجٹ خرچ ہوپائے گا۔ بجٹ میں اقلیتی اداروں اور اسکیمات کے لئے منظورہ رقم میں اقلیتی امیدواروں کی ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کیلئے 15 کروڑ مختص کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن اس اسکیم پر عمل آوری کرے گا۔ کرسچن فینانس کارپوریشن کیلئے 12 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ اقلیتوں کی سماجی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے 2کروڑ 26 لاکھ مختص کئے گئے ۔ دائرۃ المعارف ، عثمانیہ یونیورسٹی کیلئے 5 کروڑ ، اردو اکیڈیمی کے تحت اسکیمات اور اردو گھر شادی خانوں کی تعمیر کیلئے 42 کروڑ ، اسکالر شپ برائے اقلیتی طلبہ 100 کروڑ ، فیس باز ادائیگی اسکیم 248کروڑ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم 160 کروڑ ، آئمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ کی اسکیم 80 کروڑ، سروے کمشنر وقف ایک کروڑ ، سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز 4 کروڑ ، تلنگانہ حج کمیٹی 4 کروڑ ، ٹی پرائم اور ٹی ایس ای زیڈ 25 کروڑ ، تلنگانہ مینارٹیز اسٹڈی سرکل 8 کروڑ ، پری میٹرک اسکالرشپ 30 کروڑ ، شادی مبارک 200 کروڑ ، چیف منسٹر اوورسیز اسٹڈی اسکیم 100 کروڑ ، افطار اور کرسمس 66 کروڑ ، اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی 735 کروڑ اور مکہ مسجد و شاہی مسجد کی نگہداشت اور تعمیری کاموں کیلئے 7 کروڑ مختص کئے گئے۔ سکھ بھون کی تعمیر کیلئے 7 کروڑ اور کرسچن بھون کی تعمیر کیلئے 29 کروڑ 99 لاکھ مختص کئے گئے ہیں۔ مرکزی اسکیم ایم ایس ڈی پی کے تحت تلنگانہ کو 90 کروڑ روپئے حاصل ہونے کا امکان ہے۔ حکومت نے جن اسکیمات اور اداروں کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے ، ان میں اقامتی اسکول سوسائٹی دعوت افطار و کرسمس، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم ، شادی مبارک ، پری میٹرک اسکالرشپ ، تلنگانہ حج کمیٹی ، سروے کمشنر وقف ، آئمہ اور مؤذنین کا اعزازیہ ، اردو اکیڈیمی ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم ، فیس باز ادائیگی اور دائرۃ المعارف شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT