Tuesday , December 18 2018

اقلیتی بجٹ کے مکمل استعمال کو یقینی بنانے کے سی آر کو مشورہ

ایس سی طلبہ کی طرز پر اقلیتی طلبہ کو بھی بیرونی یونیورسٹیز میں داخلہ کے لیے مالی مدد پر زور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کا مکتوب

ایس سی طلبہ کی طرز پر اقلیتی طلبہ کو بھی بیرونی یونیورسٹیز میں داخلہ کے لیے مالی مدد پر زور
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کا مکتوب
حیدرآباد ۔ 29 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : ریاست میں کے سی آر حکومت نے اقلیتوں کی بہبود کے لیے 1030 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے ۔ جس کا مختلف اقلیتی اداروں گوشوں ، حلقوں ، سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے زبردست خیر مقدم کیا جاتا رہا اور اس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ حکومت نے اقلیتوں کے لیے ریاستی بجٹ میں 1030 کروڑ روپئے مختص تو کردئیے لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ ریاستوں میں اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ ہمیشہ پوری طرح استعمال نہیں کیا جاتا اور اسے واپس کردینا پڑتا ہے ،حالانکہ ملک بالخصوص ریاست میں اقلیتیں تعلیمی معاشی ہر لحاظ سے انتہائی پسماندہ ہیں ۔ دیہاتوں سے لے کر شہروں میں تک سود خور غریب مسلم خاندانوں کا خون چوس رہے ہیں ۔ ان کی زندگیوں اور عزت و آبرو سے کھیل رہے ہیں ۔ مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا یہ حال ہے کہ شہر میں کچھ عرصہ قبل ایک ایسا عبرت ناک واقعہ بھی پیش آیا جہاں ایک غریب ماں کو اپنے بیٹے کی تجہیز و تکفین کے لیے سود پر قرض لینا پڑا ۔ آج تعلیمی اعتبار سے مسلمان بہت پیچھے ہیں لیکن ریاکاری اور دنیاوی شہرت سے بے نیاز چند ہمدردان ملت و مخلص اداروں اور خود والدین کی کوششوں کے نتیجہ میں ہماری نئی نسل علم کی جانب راغب ہورہی ہے ۔ بعض انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کا تعلیمی مظاہرہ اس قدر شاندار رہا کہ انہیں امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، نیوزی لینڈ اور سنگاپور کی مشہور و معروف یونیورسٹیوں میں داخلے ملے ہیں ،لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس 6 تا 10 لاکھ روپئے کی فیس تو دور فضائی ٹکٹ کے لیے رقم تک نہیں ہے ۔ کیوں کہ ان بچوں کے باپ ڈرائیورس ، الیکٹریشن اور چھوٹی موٹی کرانہ کی دکانات چلاتے ہیں ۔ ایسے ہی ہونہار طالب علموں کی مدد اور اقلیتوں کے بجٹ کے مکمل استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے چیف منسٹر جناب کے چندر شیکھر راؤ کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے توجہ دلائی ہے ،انہوں نے اپنے مکتوب میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ کے سی آر حکومت نے اقلیتوں کی بہبود کے لیے 1030 کروڑ روپئے مختص کئے ساتھ ہی اس بات پر تشویش بھی ظاہر کی کہ آیا یہ بجٹ مارچ 2015 تک مکمل طور پر استعمال بھی کیا جائے گا یا نہیں ؟ جناب زاہد علی خاں نے چیف منسٹر کو بطور خاص اس معاملہ میں سنجیدگی سے غور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اقلیتی بجٹ کے موثر اور مکمل استعمال کو یقینی بنانے اقلیتوں سے متعلق پروگرامس و اسکیمات کی شرائط میں نرمی پیدا کریں ۔ انہیں آسان بنائیں ۔ ایڈیٹر سیاست نے چیف منسٹر کے نام مکتوب میں مسلمانوں کے ایک اہم ترین مسئلہ پر توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ اقلیتوں میں ایسے پیشہ ورانہ کورس مکمل کرچکے نوجوان بھی ہیں جو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں ، ان میں سے بعض نوجوانوں کو امریکہ اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں داخلے مل چکے ہیں تاہم وہ لاکھوں روپئے فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان غریب مسلم طلبہ کو ایس سی / ایس ٹی طلبہ کے لیے شروع کردہ امبیڈکر اوورسیز ودیاندھی کے خطوط پر مالی مدد فراہم کی جائے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایس سی طلبہ کو بیرون ممالک کی یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کرنے مالی مدد سے متعلق حکومت کے جاری کردہ سرکاری حکمنامہ ( جی او ایم ایس نمبر 54 مورخہ 28-6-2013 ) کا حوالہ بھی دیا ۔ جناب زاہد علی خاں نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مذکورہ دونوں مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ضروری اقدامات کی خواہش کی اور کہا کہ اس سے انہیں یہ اندازہ ہوگا کہ حکومت صرف بڑے اعداد و شمار کے ذریعہ اقلیتوں کو خوش نہیں کررہی ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا بھروسہ حاصل کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT