Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں کو تعلیمی اعتبار سے بااختیار بنانے کی مہم جاری

اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں کو تعلیمی اعتبار سے بااختیار بنانے کی مہم جاری

ملک بھر کے 308 اضلاع میں ڈگری کالجس، اسکولی عمارتیں، آئی ٹی آئیز قائم کئے جارہے ہیں: مختار عباس نقوی

نئی دہلی 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے آج کہاکہ پہلی مرتبہ ایسی مہم جنگی خطوط پر شروع کی گئی ہے کہ ملک بھر کے 308 اضلاع میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے بنیادی سہولتیں میسر کرائی جائیں۔ اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ حکومت کی کوششوں کا مقصد تمام طبقات کو شامل کرتے ہوئے ترقی کرنا ہے اور یہ یقینی بنانا ہے کہ اقلیتیں اصل دھارے کی ترقی میں شامل ہوجائیں، اُن کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ بات کہی گئی۔ اقلیتی اُمور سے نمٹنے والے ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز کی یہاں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نقوی نے کہاکہ حکومت پردھان منتری جن وکاس کاریاکرم کے تحت اسکولس، کالجس، پالی ٹیکنکس، گرلز ہاسٹلس، انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس اُن علاقوں میں قائم کررہی ہے جنھیں آزادی کے بعد سے ایسی سہولتوں سے محروم رکھا گیا یا جنھیں نظرانداز کردیا گیا۔ نقوی کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ اِس طرح کی سہولتوں کا فقدان اقلیتوں بالخصوص مسلم لڑکیوں میں کم تر شرح خواندگی کے پس پردہ بڑی وجہ ہے۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ جنگی خطوط پر مہم شروع کی گئی ہے کہ ملک کے 308 اضلاع میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو یقینی طور پر تعلیمی اعتبار سے بااختیار بنایا جائے۔ گزشتہ چار سال کے دوران ہمہ شعبہ جاتی ترقیاتی پروگرام کے تحت حکومت کی جانب سے متعدد ڈگری کالج، 2019 اسکول عمارتیں، 37,267 اضافی کلاس رومس، 1,141 ہاسٹلس، 170 آئی ٹی آئیز، 48 پالی ٹیکنکس اور 38 ہزار 736 آنگن واڑی سنٹرس وغیرہ قائم کئے گئے ہیں۔ نقوی نے کہاکہ پردھان منتری جن وکاس کاریاکرم حکومت کا ایک مؤثر مشن ثابت ہوا ہے کہ تمام طبقات کو شامل کرتے ہوئے باوقار انداز میں ترقی کے عہد کی تکمیل کی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ پی ایم جے وی کے کے تحت 80 فیصد وسائل تعلیم، صحت اور اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق پراجکٹوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ پی ایم جے وی کے کے تحت 33 تا 40 فیصد وسائل خصوصیت سے خواتین سے متعلق پراجکٹوں کے لئے الاٹ کئے گئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ پہلے صرف اُن دیہات میں جہاں اقلیتی برادری کا کم از کم 50 فیصد آبادی ہوا کرتی تھی، اُنھیں پر توجہ دی جاتی تھی۔ آبادی کی اِس کسوٹی کو گھٹاکر تمام طبقات کی شمولیت والی ترقی کے لئے 25 فیصد کردیا گیا ہے۔ نقوی نے ادعا کیاکہ ریاستی حکومتوں کی بھی پی ایم جے وی کے پر بہتر اور مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کی مساوی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کو سماجی و معاشی اور تعلیمی اعتبار سے بااختیار بنانا مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستوں کی بھی مساوی ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ چار سال میں 2 کروڑ 66 لاکھ غریب اور کمزور طبقے کے طلباء کو مختلف اسکالرشپس سے فائدہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT