Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود اداروں میں عہدیداروں کی کمی سے کام کاج میں دشواری

اقلیتی بہبود اداروں میں عہدیداروں کی کمی سے کام کاج میں دشواری

چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کے تبادلے کے بعد متبادل انتظام کی ضرورت

چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کے تبادلے کے بعد متبادل انتظام کی ضرورت
حیدرآباد۔20 جولائی، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے اداروں میں پہلے ہی عہدیداروں کی کمی ہے لیکن حکومت نے متبادل انتظام کئے بغیر چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کا تبادلہ کردیا جو ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی کے بھی فرائض انجام دے رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر ایم اے حمید جو محکمہ مال میں ڈپٹی کلکٹر رینک کے عہدیدار ہیں ان کی خدمات دوبارہ محکمہ مال کو واپس کردی گئیں۔ ذرائع کے مطابق خود مسٹر ایم اے حمید کی خواہش پر حکومت کے ایک بااثر وزیر نے ان کے تبادلہ میں اہم رول ادا کیا۔ اگرچہ ان کے تبادلہ اور آر ڈی او گدوال ضلع محبوب نگر کی حیثیت سے تقرر کے احکامات جاری کردیئے گئے تاہم محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے یہ دشواری ہے کہ وہ انہیں اس عہدہ سے ریلیو کردے۔ چونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے بیشتر اداروں میں عہدیداروں کی کمی ہے اور ایک، ایک عہدیدار ایک سے زائد ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ لہذا سکریٹری اقلیتی بہبود چاہتے ہیں کہ متبادل انتظام تک متبدلہ عہدیدار کو سبکدوش نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ اقلیتی اداروں کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں شدید قلت پیدا ہوگئی ہے خاص طور پر کیڈر پوسٹ سے وابستہ عہدیدار انتہائی کم ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں ڈپٹی سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری رتبہ کا ایک بھی عہدیدار نہیں۔ محکمہ میں ڈپٹی سکریٹری رینک کا ایک عہدیدار تھا جسے آندھرا پردیش حکومت کیلئے الاٹ کردیا گیا۔ سرکاری نظم و نسق میں اہم عہدوں پر اقلیتی عہدیداروں کی کمی کے باعث بھی اقلیتی اداروں پر تقررات میں حکومت کو دشواری کا سامنا ہے۔ ایسے میں اگر موجودہ اقلیتی عہدیداروں کا تبادلہ کردیا جائے تو پھر اقلیتی اداروں کا پُرسان حال کون ہوگا۔ وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کے عدم تقرر کے باعث پہلے ہی سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ ایسے میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر کا تبادلہ اس ادارہ کی کارکردگی کو مزید ابتر کردے گا۔ اسی طرح حج سیزن سے عین قبل ایکزیکیٹو آفیسر کے تبادلہ سے حج انتظامات میں دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔ محکمہ کے ملازمین کا خیال ہے کہ حکومت کو متبادل انتظام کے بعد ہی کسی کا تبادلہ کرنا چاہیئے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومت دیگر محکمہ جات میں موجود اقلیتی عہدیداروں کو ڈپوٹیشن پر محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں تعینات کرتی، لیکن برخلاف اس کے موجودہ عہدیداروں کے تبادلے سے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ حج کمیٹی ایکٹ کے تحت ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی کیلئے ڈپٹی سکریٹری رینک کا عہدیدار ضروری ہے جبکہ وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ پر جوائنٹ سکریٹری رینک کے عہدہ دار کا تقرر لازمی ہے، لیکن نظم و نسق میں تلنگانہ میں ان دونوں رینک کا کوئی بھی مسلم عہدیدار موجود نہیں۔ موجودہ اقلیتی اداروں میں اردو اکیڈیمی، سی ای ڈی ایم، اقلیتی فینانس کارپوریشن کے اہم عہدوں کی ذمہ داری پروفیسر ایس اے شکور سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان تین اداروں کے علاوہ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی کے فرائض بھی وہ انجام دے رہے ہیں جبکہ ایم اے حمید سی ای او وقف بورڈ اور ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ان کے تبادلے کی صورت میں دو اداروں پر کوئی عہدیدار نہیں رہے گا۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اقلیتی اداروں کے عہدوں پر تقررات پر توجہ دے اور ساتھ میں ان اداروں میں درکار ملازمین کی تعداد کو بھی الاٹ کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT