Friday , May 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود بجٹ کی اجرائی پر محکمہ فینانس کی سردمہری

اقلیتی بہبود بجٹ کی اجرائی پر محکمہ فینانس کی سردمہری

۔10 اسکیمات کے 167 کروڑ خطرہ میں ، سبسیڈی اور حج کمیٹی کیلئے برائے نام اجرائی

حیدرآباد ۔ 8 ۔مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاریہ مالیاتی سال محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی کی رفتار انتہائی سست دیکھی گئی ہے۔ حکومت کے عہدیدار اگرچہ 70 فیصد بجٹ کی اجرئی کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن اعداد و شمار سے یہ دعوے غلط ثابت ہورہے ہیں۔ اب جبکہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے تین ہفتے باقی ہیں، حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو مزید بجٹ کی اجرائی کا کوئی تیقن دینے سے انکار کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ فینانس کے عہدیدار اقلیتی بہبود کیلئے مزید بجٹ کی اجرائی سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاریہ سال مختلف محکمہ جات سے تین ہزار کروڑ روپئے کی بچت کرکے کسانوں کی امداد سے متعلق اسکیم کیلئے فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ مالیاتی سال اس اسکیم کیلئے چار ہزار کروڑ فراہم کئے جائیں گے۔ کسانوں کو فی ایکر چار ہزار روپئے کی امداد سے متعلق اسکیم کیلئے حکومت کو 7,000 کروڑ کی ضرورت ہے ، لہذا مختلف محکمہ جات کے بجٹ میں کٹوتی کردی گئی ۔ ایسے وقت جبکہ اقلیتی بہبود کے ادارے لمحہ آخر میں بجٹ کی اجرائی کے منتظر تھے، سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور نے اداروں کو پابند کیا کہ وہ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں خود نمائندگی و مساعی کرلیں۔ انہوں نے 10 مختلف اسکیمات کیلئے ابھی تک جاری کردہ بجٹ اور محکمہ فینانس میں زیر التواء بلز کی تفصیلات کے ساتھ نوٹ جاری کرکے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ زیر التوابلز کی منظوری کیلئے محکمہ فینانس میں کوشش کریں۔ محکمہ فینانس میں سکریٹری یا پھر متعلقہ وزیر کی نمائندگی اثر انداز ثابت ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 10 مختلف اسکیمات کیلئے محکمہ فینانس میں 167 کروڑ 76 لاکھ کے بلز زیر التواہیں۔ حکومت نے ان اسکیمات کیلئے 689 کروڑ 50 لاکھ روپئے بجٹ میں مختص کئے تھے جبکہ 514 کروڑ 65 لاکھ روپئے کی اجرائی سے متعلق جی او جاری کئے گئے ۔ 346 کروڑ 89 لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کیلئے 425 کروڑ منظورہ بجٹ میں سے 287 کروڑ 50 لاکھ جاری کئے گئے ۔ 31 کروڑ 25 لاکھ کی اجرائی باقی ہے۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے 150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے جس میں 22 کروڑ 50 لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی ۔ 87 کروڑ 52 لاکھ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ وقف بورڈ کے 50 کروڑ کے منجملہ 12 کروڑ 20 لاکھ جاری کئے گئے اور 25 کروڑ 30 لاکھ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ اردو اکیڈیمی کا بجٹ 23 کروڑ ہے جس میں 11 کروڑ 75 لاکھ جاری کئے گئے۔ 5 کروڑ 50 لاکھ کی اجرائی باقی ہے۔ مکہ مسجد و شاہی مسجد کیلئے 5 کروڑ کے منجملہ دیڑھ کروڑ ہی جاری کئے گئے ۔ دو کروڑ 25 لاکھ باقی ہے۔ اقلیتی امیدواروں کو پیشہ ورانہ کورسس میں تربیت کیلئے ٹریننگ ایمپلائیمنٹ اسکیم کے 12 کروڑ میں سے 5 کروڑ 9 لاکھ روپئے جاری کئے گئے اور 4 کروڑ 91 لاکھ کی اجرائی باقی ہے۔ کرسچن فینانس کارپوریشن کیلئے 7 کروڑ کے منجملہ 2 کروڑ 10 لاکھ روپئے جاری کئے گئے جبکہ 3 کروڑ 15 لاکھ کی اجرائی باقی ہے۔ تلنگانہ اسٹڈی سرکل کے 10 کروڑ میں صرف تین کروڑ جاری کئے گئے۔ 4 کروڑ 50 لاکھ روپئے سے متعلق بلز منظوری کے منتظر ہیں۔ حج کمیٹی کے تین کروڑ بجٹ میں صرف 90 لاکھ روپئے جاری کئے گئے ۔ ایک کروڑ 35 لاکھ کے بلز فینانس میں زیر التواہیں۔ دائرۃ المعارف کا بجٹ 4 کروڑ 50 لاکھ مختص کیا گیا اور تین کروڑ 37 لاکھ کے جی او جاری ہوئے جبکہ ایک کروڑ 35 لاکھ کی رقم بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی ۔ دو کروڑ تین لاکھ روپئے کے بلز محکمہ فینانس میں زیر التواء ہے۔ عہدیداروں کو اندیشہ ہے کہ اہم اسکیمات کیلئے محکمہ فینانس سے بجٹ کی اجرائی نہیں ہوگی ۔ چیف منسٹر کے دفتر سے عہدیداروں کو مثبت ردعمل حاصل نہیں ہوا۔

TOPPOPULARRECENT