Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود سے اسکیمات کے آغاز کا دعویٰ

اقلیتی بہبود سے اسکیمات کے آغاز کا دعویٰ

بجٹ کی اجرائی مایوس کن ، عمل آوری میں رکاوٹ
حیدرآباد۔21 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتی بہبود کے لئے مختلف اسکیمات کے آغاز کے ذریعہ دعوے کررہی ہے لیکن بجٹ کی اجرائی کا معاملہ مایوس کن ہے جب تک اسکیمات کا بجٹ جاری نہیں کیا جاتا اس وقت تک ان پر عمل آوری کی توقع کرنا مضحکہ خیز ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے اقلیتی بہبود کے لئے مختص کردہ بجٹ کی اجرائی کا انکشاف ایوان کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں ہوا گزشتہ سال اقلیتی بہبود کے لئے بجٹ میں 1130 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن ایک سال میں صرف 691 کروڑ روپئے ہی جاری کئے گئے۔ باقی بجٹ کو چیف منسٹر نے جاریہ سال برقرار رکھنے کا اسمبلی میں وعدہ کیا تھا، لیکن ماباقی رقم سرکاری خزانہ میں واپس ہوگئی۔ جاریہ سال بجٹ میں 1204 کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن دوسرے سہ ماہی کے آغاز کے باوجود ابھی تک صرف 450 کروڑ روپئے ہی جاری ہوئے ہیں جس میں 300 کروڑ اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی اسکیمات کے ہیں۔ اس طرح دیگر تمام فلاحی اسکیمات کے لئے صرف 150 کروڑ روپئے ہی جاری کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں 580 کروڑ روپئے کی محکمہ فینانس کی منظوری حاصل ہوئی لیکن اجرائی کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اقلیتی بہبود کمیٹی نے بجٹ کی اجرائی میں سست رفتار رویہ پر حیرت کا اظہار کیا تاہم اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی کہ گزشتہ سال کے مقابلہ جاریہ سال بجٹ کی اجرائی کا موقف بہتر رہے گا۔ حکومت نے کئی فلاحی اسکیمات کو گرین چینل کے تحت شامل کرنے کا تیقن دیا تھا تاکہ محکمہ فینانس سے بجٹ کی اجرائی کی ضرورت نہ پڑے۔ گرین چینل میں اسکیمات کی شمولیت سے استفادہ کنندگان کو راست طور پر امدادی رقم اکائونٹ میں جمع کردی جاتی ہے۔عہدیداروں نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ شادی مبارک، اسکالرشپ، فیس بازادائیگی، اوورسیز اسکالرشپ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے قرضہ جات سے متعلق اسکیمات کو گرین چینل میں شامل کیا جائے تاکہ بجٹ کی اجرائی کا انتظار کیئے بغیر درخواست گزاروں کو فوری طور پر امداد جاری کی جاسکے۔ واضح رہے کہ شادی مبارک اسکیم میں حکومت کی جانب سے بعض نئی شرائط کی شمولیت کے بعد یکسوئی کی رفتار سست ہوچکی ہے۔ ریاست بھر میں زیر التوا درخواستوں کی تعداد تقریباً 10 ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں 6 ہزار درخواستیں صرف گریٹر حیدرآباد حدود کی ہیں۔ گزشتہ تین ماہ سے درخواست گزار اپنی درخواست کا موقف جاننے کے لئے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اسی طرح اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کے سلسلہ میں طلبہ کو ایک طرف کالجس کے دبائو کا سامنا ہے تو دوسری طرف وہ اپنی معاشی کمزوری کے سبب کالجس کو فیس ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ حکومت نے اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت پہلے مرحلہ میں منتخب امیدواروں کو 5 لاکھ روپئے جاری کردیئے لیکن دوسری قسط ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ اسی طرح اس اسکیم کے دوسرے مرحلہ کے منتخب امیدواروں کے بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کا موقف غیر واضح ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 2016ء جنوری۔فبروری میں 226 طلبہ کا انتخاب کیا گیا ہے جس کے لئے حکومت نے 30 کروڑ روپئے کی اجرائی سے اتفاق کیا۔ فیس باز ادائیگی اسکیم کے تحت جاریہ سال 219 کروڑ 43 لاکھ کے بقایاجات کی ادائیگی کا محکمہ کی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے لیکن اقلیتی کالجس اس دعوے کی نفی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2013ء سے آج تک کروڑہا روپئے کے بقایاجات اقلیتی کالجس کو جاری نہیں کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم جاریہ سال ابھی تک شروع کی گئی۔ محکمہ ا قلیتی بہبود یہ طے کرنے میں ناکام ہوچکا ہے کہ اسے اسکیم کے تحت موصولہ ایک لاکھ 60 ہزار درخواستوں کی کس طرح یکسوئی کی جائے۔ حکومت نے پہلے مرحلہ میں ایک لاکھ تک قرض سے متعلق درخواستوں کی یکسوئی کی ہدایت دی لیکن اس پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ کارپوریشن کے تحت ’اوون یوور آٹو‘ اسکیم اور ’ٹریننگ و ایمپلائمنٹ‘ اسکیم کے لئے حکومت سے بجٹ کی اجرائی کا انتظار ہے۔

TOPPOPULARRECENT