Wednesday , December 19 2018

اقلیتی بہبود میں 66 اردو آفیسرس کے تقررات میں تاخیر کا اندیشہ

جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے مشاورت،تقررات کیلئے کم از کم مزید تین ماہ درکار ، نصاب اور ماڈل پیپر تیار
حیدرآباد۔7۔ فروری (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے 66 اردو آفیسرس کے تقررات کا عمل 60 دن میں مکمل کرنے کا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ امتحانات کیلئے نصاب اور ماڈل پیپر کی تیاری کیلئے سب کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے لیکن امتحانات کے انعقاد کا عمل کب شروع ہوگا، اس کا انحصار جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی سے محکمہ اقلیتی بہبود کے امکانی معاہدہ پر ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میں پولیس رکروٹمنٹ بورڈ اور تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن سے مشاورت کی گئی تھی لیکن دونوں اداروں نے بھی تقررات کے عمل کے لئے کم سے کم تین ماہ کا وقت مانگا ہے۔ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں جو شرائط اور قواعد ہیں، ان کا اطلاق اردو آفیسر س کی جائیدادوں پر بھی ہوگا۔ لہذا کسی بھی رکروٹمنٹ ادارہ کو مقررہ قواعد پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے جے این ٹی یو سے مشاورت کی ہے اور یونیورسٹی نے تقررات کے سلسلہ میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ جے این ٹی یو اور اقلیتی بہبود کے عہدیدار امتحانات کے طریقہ کار کو قطعیت دینے میں مصروف ہیں۔ جے این ٹی یو اپنی ویب سائیٹ کے ذریعہ امتحانات منعقد کرے گی اور یہ عمل مکمل طور پر رازدارانہ اور فل پروف رہے گا۔ جس طرح یونیورسٹی کے امتحانی پرچوں کیلئے خصوصی کوڈ ہوتا ہے، اسی طرح اردو آفیسرس کے امتحانی پرچے بھی کوڈ کے تحت محفوظ رہیں گے۔ امتحانات کے طریقہ کار کو قطعیت دینے کے بعد یونیورسٹی اور محکمہ اقلیتی بہبود میں معاہدہ ہوگا جس کے بعد تقررات کا اعلامیہ جاری کیا جاسکتا ہے۔ معاہدہ کی تکمیل کے بعد کم سے کم تین ماہ کی مدت درکار ہوگی اور تقررات کی تکمیل توقع ہے کہ جون تک مکمل ہوجائے گی۔ سرکاری عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں رکروٹنگ ایجنسیز کو مقررہ قواعد کی تکمیل ضروری ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر اعلامیہ کی اجرائی اور امتحانات کی تاریخ کے اعلان کے بعد مقررہ رولس کے مطابق امیدواروں کو وقت نہیں دیا گیا تو عدالت میں اعلامیہ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ قانونی کشاکش سے بچنے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے مقررہ شرائط کی تکمیل کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 66 اردو آفیسرس کے تقررات کے اعلان کے بعد سے اردو داں امیدواروں میں تجسس پایا جاتا ہے ۔ اردو زبان اور ترجمہ سے واقف افراد اس موقع سے استفادہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت نے جن 66 جائیدادوں کا اعلان کیا ہے، ان میں اردو آفیسرس گریڈ I کی 6 اور اردو آفیسرس گریڈ II کی 60 جائیدادیں شامل ہیں۔ یہ عہدیدار چیف منسٹر کے دفتر، اسمبلی ، کونسل ، اسمبلی اسپیکر ، صدرنشین کونسل ، ریاستی وزراء ، چیف سکریٹری ، تمام ضلع کلکٹرس ، جی اے ڈی ، ڈائرکٹر جنرل پولیس ، کمشنر پولیس ، اقلیتی بہبود اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں تعینات کئے جائیں گے۔ ان کی ذمہ داری اردو سے انگریزی یا تلگو میں ترجمہ کرنا ہوگا ، انہیں تلگو اور انگلش سے اردو میں ترجمہ کی ذمہ داری بھی ادا کرنی ہوگی۔ اردو میں موصول ہونے والی درخواستوں کا ترجمہ کرتے ہوئے حکومت کو مسائل سے آگاہ کرنے کیلئے یہ تقررات کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے تقررات کے سلسلہ میں امیدواروں کی قابلیت اور عمر کی حد کا اعلان کردیا ہے۔ گریڈ I آفیسر کیلئے کسی بھی یونیورسٹی سے ڈگری جس میں اردو بحیثیت ایک مضمون شامل رہے۔ اس کے علاوہ کسی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری کا حامل ہونا چاہئے۔ گریڈ II آفیسر کیلئے ڈگری میں اردو بحیثیت ایک مضمون ضروری ہے اور ایس ایس سی میں تلگو بحیثیت مضمون شامل ہونا چاہئے۔ امیدواروں کی عمر 21 تا 44 سال کے درمیان ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT