Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / اقلیتی بہبود ناکارہ ادارے میں تبدیل، اسمبلی اقلیتی بہبود کمیٹی کی برہمی

اقلیتی بہبود ناکارہ ادارے میں تبدیل، اسمبلی اقلیتی بہبود کمیٹی کی برہمی

اعلی عہدیداروضاحت میں ناکام، وقف بورڈ اور اسکول سوسائٹی میں دھاندلیاں عروج پر، اسکیمات ٹھپ
حیدرآباد۔11 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کی اقلیتی بہبود کمیٹی نے آج محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا یہ احساس تھا کہ اقلیتی بہبود کا کوئی بھی ادارہ اطمینان بخش طور پر کام نہیں کررہا ہے اور اعلی عہدیدار کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ کمیٹی کا یہ احساس تھا کہ محکمہ میں جوابدہی کا کوئی احساس نہیں ہے اور اداروں پر کسی کا کنٹرول نہیں۔ کمیٹی کے صدرنشین رکن اسمبلی عامر شکیل کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ارکان محمد فاروق حسین، محمد سلیم، ونئے بھاسکر، اکبر اویسی، امین الحسن جعفری اور اسٹیفن سن نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں وقف اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کو شامل کیا گیا تھا لیکن عہدیدار تمام تفصیلات کے ساتھ شریک نہیں ہوئے جس پر ارکان نے برہمی ظاہر کی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کمیٹی کو اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر رہے۔ مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے ایک گھنٹے سے زائد تک اقلیتی بہبود کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے عہدیداروں کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی کارکردگی میں سدھار لائیں۔ انہوں نے وقف بورڈ، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے امور پر خصوصی توجہ دی اور بے قاعدگیوں کا ذکر کیا۔ ایک مرحلہ پر انہوں نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ کو اسمبلی قواعد کی یاد لائی۔کمیٹی نے ریاست کی تمام اوقافی جائیدادوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں لیکن صرف درگاہ حضرت حسین شاہ ولی کی اوقافی اراضیات کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔ کمیٹی نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ان میں اصلاحات کے لیے تجاویز تیار کرنے اور اسے چیف منسٹر کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے وقف بورڈ کو بے قاعدگیوں اور بروکرس کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ 70 تا 80 ہزار روپئے تنخواہ حاصل کرتے ہوئے ملازمین کچھ کام نہیں کررہے ہیں اور وہ وقت کے تحفظ کی اے بی سی ڈی سے بھی واقف نہیں۔ وقف بورڈ میں اقربا پروری عروج پر ہے اور اسے خانگی موروثی ادارے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ کئی ملازمین کی تین نسلیں وقف بورڈ سے وابستہ ہیں۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس دو دن کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن کل 12 ستمبر کے اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ اس اجلاس میں حیدرآباد، رنگاریڈی، میڑچل اور ملکاجگری اضلاع کے کلکٹرس کو طلب کیا گیا تھا۔ اراضی کے جامع سروے میں کلکٹرس کی مصروفیت کو دیکھتے ہوئے اجلاس آئندہ کے لیے ملتوی کیا گیا ہے۔ اقلیتی بہبود کمیٹی 21 ستمبر کو ورنگل ضلع کا دورہ کرے گی اور اوقافی جائیدادوں اور اراضیات پر ناجائز قبضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ مقامی رکن اسمبلی اور کمیٹی کے رکن ونئے بھاسکر کی تجویز پر کمیٹی نے دورے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اجلاس کے بعد صدرنشین عامر شکیل رکن اسمبلی نے بتایا کہ اردو اکیڈیمی کے تحت چلنے والے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کو اقلیتی بہبود کے دیگر اداروں میں ضم کرنے اور انہیں تنخواہیں جاری کرنے کی کمیٹی نے سفارش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز ناکارہ اور بند ہوچکے ہیں لیکن ان کے ملازمین تنخواہوں کی ادائیگی پر اصرار کررہے ہیں۔ کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ وہ کمپیوٹر سنٹرس کے احیاء کے لیے منصوبہ بندی کرے۔ انہوں نے کہا کہ 15 ستمبر تا 15 ڈسمبر تین ماہ طویل جامع اراضی سروے میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ میں شامل کرنے کی مساعی کے تحت کمیٹی مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے ضلع کلکٹرس سے ملاقات کرے گی۔ عامر شکیل نے کہا کہ تلنگانہ میں 80 سال بعد پہلی مرتبہ اس قدر جامع سروے کا اہتمام کیا گیا ہے اور اگر اس مرتبہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ نہیں کیا گیا تو پھر آئندہ کبھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو درکار ملازمین اور اسکیمات پر عمل آوری کے لیے ضلعی سطح پر اسٹاف میں اضافہ کے لیے اسمبلی کی کمیٹی تجاویز تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کسی کی گرفت ہے۔ ہر عہدیدار اپنا وبال ماتحت ملازمین پر ڈال دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت سبسیڈی کی اجرائی میں تاخیر پر اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ جلد سے جلد اس اسکیم پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ، اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن میں اصلاحات پر اولین توجہ دی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ کے لیے نیا قاضی ایکٹ مدون کیا جائے گا۔ عامر شکیل نے کہا کہ چیف منسٹر کے وعدے کے مطابق تمام اقلیتی اداروں کو حج ہائوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ انیس الغربا کے ہمہ منزلہ کامپلکس کی تعمیر کے جلد آغاز کی ہدایت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انیس الغربا کے بچوں کو مشیر آباد منتقل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کمیٹی نے انیس الغربا کے قریبی کسی اسکول میں شریک کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انیس الغربا کے لیے 4 ہزار گز اراضی فراہم کی ہے اور چیف منسٹر نے رمضان المبارک کے دوران سنگ بنیاد رکھا لیکن آج تک یہ اراضی وقف بورڈ نے اپنے نام پر منتقل نہیں کی۔ اقلیتی بہبود کمیٹی نے مکہ مسجد کی چھت کی تعمیر اور تزئین نو کے کاموں کی جلد انجام دہی کی ہدایت دی۔ سیول سرویسس کی کوچنگ کے سلسلہ میں اقلیتی طلبہ کے لیے آمدنی کی حد کو 2 لاکھ روپئے سالانہ سے بڑھاکر 6 لاکھ روپئے کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

 

TOPPOPULARRECENT