Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود پر حکومت کے اعلانات محض دکھاوا و انتخابی حربہ

اقلیتی بہبود پر حکومت کے اعلانات محض دکھاوا و انتخابی حربہ

ورنگل پارلیمانی انتخاب پر چیف منسٹر کے اچانک کئی اعلانات پر محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے اقلیتی بہبود سے متعلق حکومت کے اعلانات کو محض دکھاوا اور انتخابی حربہ قرار دیا۔ انہوں نے چیف منسٹر کی جانب سے منعقدہ جائزہ اجلاس میں اقلیتوں کیلئے 60 اقامتی مدارس کے قیام اور دیگر اعلانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے اعلانات محض اقلیتوں کو خوش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ چندر شیکھر راؤ نے ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اچانک اقلیتوں کے بارے میں اعلانات کا آغاز کردیا ہے۔ وہ ورنگل میں اقلیتی رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ وہ اقلیتوں کے بارے میں سابق میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ انتخابات سے قبل اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں کے سی آر نے جو وعدے کئے تھے، ان میں سے ایک بھی وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ حکومت کے قیام کے 4 ماہ میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کمیشن آف انکوائری کے قیام کے ذریعہ ٹال دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر بھلے ہی 12 فیصد تحفظات کے وعدہ کو ورنگل میں دہرانے کی کوشش کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی کریم نگر میں اس وعدہ سے انحراف کرلیا تھا۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ چیف منسٹر کی پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جس میں انہوں نے کہا کہ 12 فیصد تحفظات کا وعدہ ضرور کیا گیا لیکن 4 ماہ میں فراہم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اقلیتوں اور دیگر طبقات کے لئے روزانہ مختلف وعدوں کے ذریعہ سپنوں کے سوداگر بن چکے ہیں۔ ان کا کام وعدوں کے ذریعہ وقتی طور پر عوام کو خوش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل کے ضمنی چناؤ میں عوام ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سماج کا ہر شعبہ حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہے، جس کا اظہار ورنگل کی انتخابی مہم میں وزراء کے خلاف عوام کے اظہار ناراضگی سے ہورہا ہے ۔ کئی وزراء کے جلسوں میں عوام نے کھل کر مخالف حکومت نعرے لگائے۔ محمد علی شبیر نے ورنگل سے ٹی آر ایس کی شکست کو یقینی قرار دیا اورکہا کہ جس طرح بہار میں بی جے پی کو شرمناک شکست ہوئی اسی طرح ورنگل کے عوام بھی ٹی آر ایس حکومت کی دیڑھ سالہ کارکردگی پر اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ قائد اپوزیشن نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی اور خرچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر اور عہدیداروں کی جانب سے متضاد اعداد و شمار پیش کئے جارہے ہیں۔ وقفہ وقفہ سے اعداد و شمار میں تبدیلی آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 1130 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن 9 ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک صرف 145 کروڑ روپئے ہی فلاحی اسکیمات پر خرچ کئے گئے۔ شادی مبارک اسکیم پر 100 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن اس اسکیم میں کئی بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی اسکیمات اور اداروں کو ابھی تک بجٹ جاری نہیں کیا گیا ۔ مجموعی طور پر 335 کروڑ روپئے جاری کئے گئے جس میں شادی مبارک کے 100 کروڑ کے بشمول 245 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو اقلیتی بہبود کی اسکیمات کے نفاذ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اب جبکہ بجٹ کیلئے صرف 3 ماہ باقی ہیں، کس طرح ٹی آر ایس حکومت باقی 800 کروڑ روپئے خرچ کرے گی ۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ جاریہ مالیاتی سال مقررہ بجٹ کا 50 فیصد بھی جاری نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT