Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہونے سے مسائل میں اضافہ

اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہونے سے مسائل میں اضافہ

تنخواہوں کی اجرائی میں غیر معمولی تاخیر ، عہدیداروں کو ہر بات کے لیے چیف منسٹر سے رجوع ہونے میں مشکل
حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلہ اضافہ کیا گیا لیکن اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کے تغافل کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تاریخی مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ گذشتہ 8 ماہ اور ملازمین بشمول ائمہ و مؤذنین 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ مکہ مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے دشوار کن ہوچکا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی منظوری کے باوجود محکمہ فینانس تنخواہوں کے بجٹ کو جاری کرنے میں تساہل سے کام لے رہا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کی مسلسل نمائندگی کے باوجود محکمہ فینانس تنخواہوں کے سلسلہ میں صرف معمولی رقم جاری کرتا ہے جس کے باعث صرف وقتی طور پر تنخواہیں جاری کی جارہی ہیں۔ اقلیتی بہبود کی وزارت چونکہ چیف منسٹر کے پاس ہے لہذا عہدیدار ہر مسئلہ پر چیف منسٹر سے رجوع ہونے سے قاصر ہیں اور اگر انہیں کوئی فائیل روانہ کی جاتی ہے تو اس کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 18اگسٹ کو مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ جناب عبدالمجید صدیقی کے 8 ماہ مکمل ہوجائیں گے اور تقرر سے آج تک انہیں تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔ تنخواہ کی ادائیگی کا مسئلہ چیف منسٹر کے دفتر میں زیر التواء ہے۔ چونکہ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد سابق میں محکمہ پولیس کے عہدیدار رہ چکے ہیں لہذا ان کی تنخواہ مقرر کرنے کیلئے بعض رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری ضروری ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے دفتر کو فائیل روانہ کی لیکن ابھی تک اس کی یکسوئی نہیں کی گئی۔ چونکہ سپرنٹنڈنٹ خالص خدمت کے جذبہ کے تحت اس ذمہ داری کو نبھارہے ہیں لہذا انہوں نے کبھی بھی اس سلسلہ میں شکایت نہیں کی۔ دوسری طرف ائمہ اور مؤذنین کی تنخواہیں گذشتہ تین ماہ سے ادا نہیں کی گئیں۔ محکمہ فینانس نے جو رقم جاری کی تھی اس سے ہوم گارڈز کی تنخواہیں جاری کردی گئیں۔ اگسٹ کے گذرنے کے بعد ائمہ اور مؤذنین تین ماہ کی تنخواہ سے محروم ہوجائیں گے۔ حکومت کو اس سلسلہ میں فوری توجہ کی ضرورت ہے اور تاریخی مکہ مسجد کے ائمہ اور مؤذنین اور ملازمین جب مقررہ وقت پر تنخواہوں سے محروم رہیں تو پھر کس طرح حکومت کی نیک نامی ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ مکہ مسجد میں 6 ملازمین کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں جن میں دو افراد کا صفائی عملہ بھی شامل ہے اور یہ دو سال سے مخلوعہ ہے۔ مسجد کے جملہ ملازمین کی تعداد 24 ہے جن میں صرف 16ملازمین ہیں۔ ائمہ اور مؤذنین کو چھوڑ کر دیگر عملہ مسجد کی نگہداشت کیلئے ناکافی ہے۔ حکومت کو اس جانب بھی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اسی دوران مکہ مسجد کے مصلیان نے حکومت کے رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ مصلیان کا کہنا ہے کہ تاریخی مکہ مسجد کے اُمور کو حکومت کی جانب سے مستقل طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ مسجد کی چھت کی تعمیر و مرمت کا کام گذشتہ دو برسوں سے زیر التواء ہے اور پراجکٹ رپورٹ کی تیاری کے نام پر جاریہ سال بھی یہ کام ممکن نظر نہیں آتا۔ ایسے میں معمولی بارش بھی چھت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور متاثر ہونے والا حصہ ہر سال وسعت اختیار کررہا ہے۔ حکام نے مسجد کی متاثرہ چھت کے حصہ کی طرف نماز کی ادائیگی سے روکنے کیلئے باقاعدہ بیریکٹس لگادیئے ہیں اگر مسجد کے چھت کو بچانے کیلئے فوری قدم نہیں اٹھائے گئے تو مسجد کے اندرونی حصہ میں نماز کی ادائیگی مسئلہ بن جائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT