Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کیلئے اضافی بجٹ کے باوجود خرچ میں ناکام

اقلیتی بہبود کیلئے اضافی بجٹ کے باوجود خرچ میں ناکام

کارکردگی کے میدان میں پسماندہ، مسلم عہدیدار اسکیمات پر عمل میں غیرسنجیدہ
حیدرآباد۔/16 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر سال اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن اقلیتی بہبود کے عہدیدار بجٹ کے حصول اور اسے مکمل خرچ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت جب بجٹ مختص کرتی ہے تو اسے بروقت حاصل کرنا متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں کی ذمہ داری ہے۔ اگر اسکیمات پر تیزی سے عمل کیا جائے تو ان کے بلز داخل کرتے ہوئے رقومات حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن تلنگانہ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران اقلیتی بہبود کا محکمہ دیگر محکمہ جات کے مقابلہ میں کارکردگی کے اعتبار سے پسماندہ دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت نے اقلیتوں کی ترقی اور ان کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے مسلم عہدیداروں کا تقرر کیا لیکن افسوس کہ یہ عہدیدار اسکیمات کے سلسلہ میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ اب جبکہ حکومت نے اقلیتی اُمور کیلئے ایک مشیر مقرر کیا ہے وہ اور محکمہ کے سکریٹری دونوں فینانس ڈپارٹمنٹ پر بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں اثر انداز نہیں ہوسکے۔ عہدیداروں میں بہتر تال میل کی کمی کا نتیجہ ہے کہ جاریہ مالیاتی سال کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود نے اپنی اہم 26 اسکیمات پر صرف 253 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں جبکہ جاریہ سال کا اقلیتی بہبود بجٹ 1240کروڑ ہے۔ جب کبھی عہدیداروں سے بجٹ کی اجرائی اور خرچ کے بارے میں تفصیلات جاری کرنے کی خواہش کی جاتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ کیا جاتا ہے۔ ’ سیاست‘ نے محکمہ فینانس سے اقلیتی بہبود کے بجٹ کی تازہ ترین صورتحال اور اعداد و شمار حاصل کئے ہیں۔ اعداد و شمار کے اعتبار سے اقلیتی اداروں کو پہلے سہ ماہی کا مکمل بجٹ آج تک جاری نہیں کیا گیا جبکہ دوسرا سہ ماہی اپنے اختتامی مرحلہ میں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ دوسرے سہ ماہی کا بجٹ بھی جاری کردیا جاتا۔ محکمہ فینانس نے اہم اسکیمات کیلئے پہلے سہ ماہی کے بجٹ سے صرف 60 فیصد رقم ہی جاری کی ہے۔ اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپ کیلئے بجٹ میں 40 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن ابھی تک صرف 12 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی ہے اور محکمہ نے 5 کروڑ 79 لاکھ روپئے خرچ کئے ہیں۔ فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے 180 کروڑ مختص کئے گئے جن میں 54 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی اور خرچ 25 کروڑ 34 لاکھ کا ہوا ہے۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کے 150 کروڑ کے منجملہ 45کروڑ جاری کئے گئے لیکن خرچ 20 کروڑ کا ہوا ہے۔ اردو اکیڈیمی کے 23 کروڑ کے بجٹ میں ابھی تک صرف 3 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ دونوں سہ ماہی میں 6 کروڑ 50 لاکھ کی اجرائی ہونی چاہیئے تھی۔ اکیڈیمی نے تاحال 2 کروڑ 45 لاکھ روپئے خرچ کئے ہیں۔ وقف بورڈ کو 50 کروڑ کے منجملہ 6 کروڑ 95 لاکھ جاری کئے گئے جبکہ حج کمیٹی کے 3 کروڑ کے بجٹ میں 45 لاکھ کی اجرائی عمل میں آئی۔ جبکہ پہلے سہ ماہی کے تحت 75 لاکھ روپئے جاری کئے جانے تھے۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے 150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تاہم 73 کروڑ خرچ کئے گئے ہیں۔ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے بجٹ میں 40 کروڑ مختص کئے گئے اور 12 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی لیکن محکمہ نے تاحال 3 کروڑ 24 لاکھ روپئے خرچ کئے ہیں۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کیلئے 425 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا اور 127 کروڑ 50 لاکھ روپئے جاری کئے گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی اور خرچ کی صورتحال مایوس کن ہے۔ بجٹ کی اجرائی میں تاخیر کیلئے محکمہ فینانس کے مطابق اقلیتی بہبود کے عہدیدار ذمہ دار ہیں جو مقررہ وقت پر خرچ کے بلز داخل نہیں کرتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو مالیاتی سال کے اختتام تک بمشکل 2 سہ ماہی کا بجٹ خرچ ہوپائیگا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں ہمیشہ فراخدلانہ فنڈز کی اجرائی کے دعوے کرتے رہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان کے اعلانات کو حقیقت میں بدلنے میں عہدیداروں کو دلچسپی نہیں۔ گزشتہ سال بھی اقلیتی بہبود کا بمشکل 50 فیصد بجٹ خرچ ہوا تھا اور عہدیدار اس کے لئے محکمہ فینانس کو ذمہ دار قرار دیتے رہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT