Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی روک دی گئی

اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی روک دی گئی

محکمہ فینانس کا اچانک فیصلہ ، کئی اہم اسکیمات ٹھپ ہونے کا اندیشہ

حیدرآباد۔ 23 ۔ ڈسمبر ( سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ اقلیتی بہبود کی مختلف اسکیمات کیلئے بجٹ کی سخت ضرورت ہے ، محکمہ فینانس نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اقلیتی بہبود کی فلاحی اسکیمات کے بجٹ کو روک دیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے محکمہ فینانس کے اس اقدام کی توثیق کی اور کہا کہ سرکاری ملازمین کو ماہِ ڈسمبر کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے حکومت نے فلاحی اسکیمات کا بجٹ روک دیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتوں کے علاوہ دیگر طبقات کی فلاحی اسکیمات کے بجٹ کی اجرائی کو بھی روک دیا گیا ہے۔ جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے 1130 کر وڑ روپئے بجٹ مختص کیا گیا تھا ۔ تاہم ابھی تک صرف 400 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ اب جبکہ مالیتی سال کے اختتام کیلئے صرف تین ماہ باقی ہیں، حکومت نے فلاحی اسکیمات کے بجٹ کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

 

بتایا جاتا ہے کہ ریاست کی مالی حالت اس قدر مستحکم نہیں ہے کہ فلاحی اسکیمات کو جاری رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جاسکیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ شادی مبارک ، اوورسیز اسکالرشپ ، فیس بازادائیگی اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ جیسی اہم اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی روک دی گئی جس کے باعث ان اسکیمات کے ہزاروں امیدوار رقم سے محروم ہیں۔ شادی مبارک کیلئے حکومت نے مزید 50 کروڑ روپئے مختص کئے تھے لیکن صرف 700 درخواستوں کیلئے امدادی رقم جاری کرنے کے بعد بجٹ کو روک دیا گیا۔ اس طرح ریاست میں شادی مبارک اسکیم کی زیر التواء درخواستوں کی تعداد 5700 تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ اوورسیز اسکالرشپ کیلئے منتخب کردہ 210 طلبہ میں سے 110 طلبہ کو پہلی قسم کی رقم پانچ لاکھ روپئے جاری کرنے کیلئے ٹریژری کو بلز روانہ کئے گئے لیکن بتایا جاتا ہے کہ بجٹ روک دیئے جانے کے سبب ایک بھی طالب علم کو پہلی قسط جاری نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ فیس بازادائیگی کے بجٹ کو بھی روک دیا گیا جو تقریباً 28 کروڑ سے زائد ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مزید دو ہفتہ یا ایک ماہ تک اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری عملاً ٹھپ رہے گی۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے اقلیتی اسکیمات کیلئے درکار بجٹ کے حصول کیلئے حکومت سے نمائندگی کی ہے۔ حکومت سے خواہش کی گئی کہ مکمل بجٹ کے بجائے کم از کم منظورہ درخواستوں کیلئے درکار بجٹ جاری کردیا جائے تاکہ ہزاروں امیدواروں کو راحت مل سکے۔

TOPPOPULARRECENT