Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کیلئے رقومات گذشتہ سال سے کم ۔ حکومت کے دعوے اعداد کا الٹ پھیر

اقلیتی بہبود کیلئے رقومات گذشتہ سال سے کم ۔ حکومت کے دعوے اعداد کا الٹ پھیر

گذشتہ تین سال سے مکمل رقم جاری نہیں کی جا رہی ہے ۔ فوری اجرائی ضروری ۔ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر

حیدرآباد 25 مارچ ( سیاست نیوز ) قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے سال 2016-17 کیلئے اقلیتی بہبود کی رقومات جو ابھی جاری نہیں کی گئیں فی الفور آئندہ چار پانچ یوم میں جاری کرنے کے علاوہ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی کی کھلی اراضی 800 ایکڑ فوری وقف بورڈ کے حوالہ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گذشتہ اسمبلی سیشن میں خود چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اراضیات حوالہ کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ محمد علی شبیر نے ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت کے پروگراموں و اسکیمات کی جہاں ستائش کی وہیں دوسری طرف محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر اظہار تاسف کیا اور ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کو ناکارہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی عدم کارکردگی کی وجہ سے آج ریاست میں اردو کمپیوٹر سنٹرس اور اردو لائبریز بند ہیں ۔ اگر اتفاقی طور پر کہیں کوئی کمپیوٹر سنٹرس چل رہے ہوں تو ان میں غیر کارکرد کمپیوٹرس ہیں ۔ درج فہرست اقوام و قبائل پسماندہ و اقلیتی طبقات کے ساتھ خواتین و اطفال اور جسمانی معذورین کی فلاح و بہبود پر مختصر مباحث پر ڈپٹی چیف منسٹر کے جواب پر وضاحت طلب کرتے ہوئے قائد اپوزیشن نے کہا کہ مذکورہ طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے مختص رقومات پر درج فہرست اقوام و قبائل پسماندہ و اقلیتی خواتین و اطفال اور جسمانی معذورین کا حق بن جاتا ہے ۔ جو رقومات جاری نہیں کیں ان کو فوری جاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے 1204 کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن اب تک صرف 603 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ گذشتہ تین سال سے بھی اقلیتی بہبود کیلئے رقومات کی اجرائی کا یہی حال ہے ۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ ایکطرف حکومت جاریہ سال بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے 1249 کروڑ روپئے مختص کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلہ میں اس سال مختص کردہ رقومات کم ہیں اور اس سلسلہ میں وہ نہ صرف مباحثہ کے لیے تیار ہیں بلکہ ثابت کرنے بھی تیار ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ خود چیف منسٹر نے ضلع کھمم میں بھی اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا لہذا تلنگانہ کے 31 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کرنے نو اعلامیہ جاری کرنے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اسلامک کلچر سنٹر کا تذکرتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے چیف منسٹر نے جو اراضی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اس سے متعلق حکم التواء آچکا ہے ۔ اب اسلامک کلچر سنٹر کیلئے اراضی کب اور کہاں فراہم کی جائیگی حکومت وضاحت کرے ۔ انہوں نے خواتین کی بہبود سے متعلق کہا کہ موجودہ تلنگانہ میں خواتین کی فلاح و بہبود تو دور کی بات ہے اب تک ایک خاتون کو کابینہ میں شامل نہیں کیا جاسکا ۔ محمد علی شبیر نے حکومت کی جانب سے بجٹ میں پیش کردہ رقومات کو صرف ’ اعداد کی الٹ پھیر ‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس طرح کے اعداد و شمار سے ملک بھر میں تلنگانہ نمبر ایک ریاست نہیں بن سکے گی ۔

TOPPOPULARRECENT