Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کیلئے 1105 کروڑ مختص، جاریہ سال سے 71 کروڑ کا اضافہ

اقلیتی بہبود کیلئے 1105 کروڑ مختص، جاریہ سال سے 71 کروڑ کا اضافہ

حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کیلئے تلنگانہ حکومت نے 1105 کروڑ 36 لاکھ 6 ہزار روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے جو گزشتہ سال کے بجٹ کے مقابلہ 71 کروڑ روپئے زائد ہے۔ حکومت نے منصوبہ جاتی مصارف کے تحت اقلیتی بہبود کیلئے 1100 کروڑ روپئے مختص کئے جبکہ غیر منصوبہ جاتی مصارف کے تحت 5 کروڑ مختص کئے ہیں۔ وزیر فینانس ای راجندر نے آج ریاستی اسم

حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کیلئے تلنگانہ حکومت نے 1105 کروڑ 36 لاکھ 6 ہزار روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے جو گزشتہ سال کے بجٹ کے مقابلہ 71 کروڑ روپئے زائد ہے۔ حکومت نے منصوبہ جاتی مصارف کے تحت اقلیتی بہبود کیلئے 1100 کروڑ روپئے مختص کئے جبکہ غیر منصوبہ جاتی مصارف کے تحت 5 کروڑ مختص کئے ہیں۔ وزیر فینانس ای راجندر نے آج ریاستی اسمبلی میں بجٹ برائے 2015-16 پیش کیا۔ حکومت نے وعدے کے مطابق اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ 2014-15 ء میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 1034 کروڑ تھا جس میں 1030 کروڑ منصوبہ جاتی مصارف اور 4 کروڑ غیر منصوبہ جاتی مصارف کے تحت تھے۔ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال پلان بجٹ میں اقلیتی بہبود کے تحت 70 کروڑ کا اضافہ کیا ہے جبکہ نان پلان بجٹ کے تحت ایک کروڑ کا اضافہ کیا گیا۔ بجٹ میں صرف دو اسکیمات کیلئے 525 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ دیگر تمام اسکیمات پر 575 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کیلئے 425 اور شادی مبارک اسکیم کیلئے 100 کروڑ مختص کئے گئے۔ اس طرح اقلیتی بہبود کا نصف بجٹ صرف دو اسکیمات کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ 2015-16 ء کے پلان بجٹ کیلئے 1100 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ نان پلان کے تحت 5 کروڑ 36 لاکھ 6 ہزار روپئے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ جاریہ سال بجٹ میں حکومت نے اقلیتی طلبہ کیلئے ایک منفرد نئی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کی طرز پر اقلیتی طلبہ کو بھی بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کیلئے قرض کی فراہمی سے متعلق اسکیم کی سفارش اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے پیش کی تھی جسے حکومت نے قبول کرتے ہوئے بجٹ میں شامل کیا

اور اس کیلئے 25 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اسکیم کے تحت بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں اقلیتی طلبہ کو 10 لاکھ روپئے تک قرض فراہم کیا جاسکتا ہے ۔ اقلیتی طلبہ کے اسکالرشپ کیلئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے جبکہ فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے 425 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت دوبارہ 100 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی جس کے تحت غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس 51,000 روپئے کی امداد فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے تلنگانہ میں اردو گھر شادی خانہ کی تعمیر کیلئے 10 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اس کے علاوہ تلنگانہ وقف بورڈ کو امداد کے طور پر 53 کروڑ الاٹ کئے گئے ۔ تلنگانہ حج کمیٹی کا بجٹ دو کروڑ رکھا گیا جبکہ تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو بطور امداد 9 کروڑ 20 لاکھ روپئے کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کیلئے 3 کروڑ ، دائرۃلمعارف عثمانیہ یونیورسٹی کو 2 کروڑ اور اردو اکیڈیمی کیلئے 12 کروڑ مختص کئے گئے ۔ اقلیتی طلبہ کیلئے ہاسٹلس اور اقامتی اسکولس کی تعمیر کے سلسلہ میں 71 کروڑ 65 لاکھ 59 ہزار روپئے کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ اقلیتی بہبود کے ضلعی دفاتر کیلئے 6 کروڑ مختص کئے گئے۔ اقلیتی طلبہ کو پیشہ ورانہ کورسس میں ٹریننگ کی فراہمی کیلئے تلنگانہ اسٹیڈی سرکل قائم کیا جائے گا۔ اس کیلئے حکومت نے 6 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔

اسٹیڈی سرکل کے تحت مرکزی اور ریاستی سرویسز میں اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافہ کیلئے کوچنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اقلیتی طالبات کیلئے اقامتی اسکولس کی تعمیر پر 20 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ اقلیتوں کی سماجی ، معاشی صورتحال کا جائزہ اور اس سے متعلق پروگراموں پر عمل آوری کیلئے 27 کروڑ 4 لاکھ 41 ہزار کے بجٹ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی فراہمی اسکیم کیلئے 95 کروڑ مختص کئے گئے ۔ سروے کمیشن وقف کو 5 کروڑ کا بجٹ مقرر کیا گیا۔ تلنگانہ کے نامور اور بہترین اداروں میں اقلیتی طلبہ کے داخلوں کی اسکیم پر عمل آوری کیلئے دو کروڑ 80 لاکھ کی گنجائش رکھی گئی ہے جس کے تحت اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ کورسس میں اقلیتی طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنایا جائے گا۔ اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی سے متعلق پروگرام ایم ایس ڈی پی کیلئے بجٹ میں 105 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ حکومت نے تلنگانہ کرسچن فینانس کارپوریشن کی امداد کے طور پر 80 لاکھ مختص کئے ہیں ۔درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ اجمیر میں رباط کی تعمیر کیلئے 5کروڑ مختص۔ اس کے علاوہ کرسچن فینانس کارپوریشن کے ذریعہ مختلف اسکیمات پر عمل آوری کیلئے 10 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تلنگانہ میں چرچ اور عیسائی قبرستانوں کی تعمیر و نگہداشت کیلئے 3 کروڑ اور یروشلم روانگی کے سلسلہ میں سبسیڈی کے تحت دو کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں 71 کروڑ کا اضافہ تو کیا لیکن مکمل بجٹ کا خرچ ہونا حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ 2014-15 ء میں مختص کردہ بجٹ 1034 کروڑ میں سے صرف 30 فیصد بجٹ ہی خرچ کیا جاسکا۔ نان پلان بجٹ کے تحت اقلیتی کمیشن کیلئے 70لاکھ 39ہزار روپئے مختص کئے گئے۔

اقلیتی بہبود بجٹ بیک نظر
فیس باز ادائیگی : 425 کروڑ
اسکالرشپ : 100 کروڑ
شادی مبارک : 100 کروڑ
بیرون ملک تعلیم پر قرض : 25 کروڑ
ہاسٹلس اور اقامتی اسکولس کی تعمیر : 71 کروڑ 65 لاکھ
اقلیتی طالبات کیلئے اقامتی اسکولس : 20 کروڑ
سبسیڈی کی فراہمی : 95 کروڑ
تلنگانہ اسٹیڈی سرکل کا قیام : 6 کروڑ
اردو اکیڈیمی : 12 کروڑ
حج کمیٹی : 2 کروڑ
وقف بورڈ : 53 کرو ڑ
درگاہ اجمیر شریف میںرباط کی تعمیر : 5کروڑ
سی ای ڈی ایم : 3 کرو ڑ
دائرۃ المعارف : 2 کروڑ
مرکزی اسکیمات : 105 کروڑ
اقلیتی کمیشن : 70لاکھ

Top Stories

TOPPOPULARRECENT