Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں حکومت کی عدم دلچسپی کے ساتھ عہدیداران بھی غیر ذمہ دار

اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں حکومت کی عدم دلچسپی کے ساتھ عہدیداران بھی غیر ذمہ دار

شہر اور اضلاع میں کارکردگی مفلوج، درخواست گذاردفاتر کے چکر لگانے پر مجبور

شہر اور اضلاع میں کارکردگی مفلوج، درخواست گذاردفاتر کے چکر لگانے پر مجبور
حیدرآباد۔/23اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کی عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ عمل آوری کے لئے مامور کردہ عہدیدار بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ جب دارالحکومت حیدرآباد میں ہی اقلیتی بہبود کے عہدیدار اسکیمات کے سلسلہ میں غیر سنجیدہ ہوں تو پھر اضلاع کی صورتحال کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اقلیتی بہبود سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کی نگرانی اور باز پرس نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ حیدرآباد میں مختلف اسکیمات کی رفتار انتہائی سُست ہے۔ حیدرآباد میں دو ماہ قبل ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کی حیثیت سے اقلیتی بہبود کے اسسٹنٹ کمشنر وی کمار کا تقرر کیا گیا لیکن انہوں نے اسکیمات پر عمل آوری میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شادی مبارک جیسی اسکیم کی تقریباً 1200 درخواستیں جانچ کی منتظر ہیں لیکن عہدیدار کو ان درخواستوں کی فوری یکسوئی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مذکورہ عہدیدار کی عدم دلچسپی اور ناقص کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس عہدیدار کی تبدیلی کی خواہش کی لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے مکتوب پر حکومت کا یہ رویہ ہے تو پھر اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری میں کس طرح تیزی پیدا ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد میں سرگرمیاں مفلوج ہوچکی ہیں اور مختلف اسکیمات کے درخواست گذار منظوری کیلئے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ حکومت نے شادی مبارک اسکیم پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی لیکن حیدرآباد میں یہ اسکیم توقع کے مطابق کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ درخواستیں تو تیزی سے داخل ہورہی ہیں لیکن ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کی عدم دلچسپی کے باعث منظوری میں تاخیر کی شکایات ملی ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی جانب سے مکتوب روانہ کئے جانے کے بعد بھی عہدیدار کی عدم تبدیلی سے نہ صرف درخواست گذاروں میں بے چینی ہے بلکہ ماتحت عہدیدار بھی حیرت کا اظہار کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکالر شپ، فیس باز ادائیگی اور مکہ مسجد کے مرمتی کاموں کی تکمیل جیسی اہم فائیلیں زیر التواء ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت مارچ تک زیر التواء درخواستوں کی تعداد 450تھی جو اب بڑھ کر 1200تک پہنچ چکی ہے۔ حیدرآباد میں محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے عہدیدار کی تبدیلی کے علاوہ کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا لیکن عہدیداروں کی عدم دلچسپی مسائل میں مزید اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT