Wednesday , December 19 2018

اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب

حیدرآباد اور نیلور کلکٹرس کا اعتراض ، انتخابی ضابطہ اخلاق کا بہانہ

حیدرآباد اور نیلور کلکٹرس کا اعتراض ، انتخابی ضابطہ اخلاق کا بہانہ

حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے بعض جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے۔ حیدرآباد اور نیلور کے ضلع کلکٹرس نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں اعتراض کیا اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب درخواستوں کی یکسوئی سے گریز کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے تمام جاریہ اسکیمات پر عمل آوری سے متعلق الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ضلع کلکٹرس کو بھی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کمیشن کی اجازت سے واقف کرایا جاسکے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے خودروزگار اسکیم کے تحت غریب اقلیتی امیدواروں کو ایک لاکھ روپئے تک کی سبسیڈی فراہم کرنے سے متعلق اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ اگرچہ یہ اسکیم جاریہ مالیاتی سال کے منصوبہ میں شامل ہے تاہم بعض ترمیمات کے ساتھ حکومت نے سبسیڈی کی رقم میں اضافہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے سلسلہ میں ریاست بھر میں اقلیتی امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئیں اور یہ درخواستیں ضلع کلکٹرس کی منظوری کے منتظر ہیں۔ ضلع کلکٹرس ضلع سطح کی بینکرس کمیٹی کے اجلاس میں قومیائے ہوئے بینکوں کے ساتھ درخواستوں کی یکسوئی کریں گے اور بینک کی جانب سے قرض کی اجرائی سے اتفاق کے بعد اقلیتی فینانس کارپوریشن سبسیڈی کی رقم جاری کرتا ہے۔ تازہ وصول شدہ درخواستوں کو ضلع کلکٹرس کے پاس منظوری کیلئے روانہ کیا گیا تاہم بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد اور نیلور کے ضلع کلکٹرس نے یہ کہتے ہوئے یکسوئی سے انکار کیا کہ مجالس مقامی، اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے سبب ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے لہذا درخواستوں کی یکسوئی نہیں کی جاسکتی۔منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ یہ اسکیم نئی نہیں ہے بلکہ جاریہ اسکیم ہے لہذا اس پر ضابطہ اخلاق کا نفاذ نہیں ہوتا۔

تاہم الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کریں گے اور ان سے جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کے بارے میں کمیشن کا موقف معلوم کیا جائے گا۔خود روزگار اسکیم کے علاوہ اردو اکیڈیمی کی مسودات پر امداد اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں بھی کمیشن سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ کمیشن سے جواب ملنے کے بعد مسودات کیلئے امداد جاری کی جائے گی۔حیدرآباد اور نیلور کے ضلع کلکٹرس کی جانب سے خودروزگار اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں اعتراضات کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ دیگر اضلاع کے کلکٹرس بھی درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کا سہارا لیں گے۔ لہذا الیکشن کمیشن سے وضاحت حاصل کرنے کے بعد تمام ضلع کلکٹرس کو اس سے واقف کرایا جائے گا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ کارپوریشن اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ الیکشن کمیشن سے اجازت ملنے کے بعد جاریہ ماہ کے اختتام تک تمام درخواستوں کی یکسوئی کردی جائے۔اس اسکیم کے تحت پہلے مرحلہ میں 4ہزار سے زاید امیدواروں کو سبسیڈی جاری کردی گئی جبکہ دوسرے مرحلہ میں 8ہزار سے زاید امیدوار اسکیم سے استفادہ کے اہل قرار پائے ہیں لہذا اسے نئی اسکیم تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT