Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کی کارکردگی اور اسکیمات پر عمل میں سست رفتاری

اقلیتی بہبود کی کارکردگی اور اسکیمات پر عمل میں سست رفتاری

چیف منسٹر کے سی آر کی سخت ناراضگی ، عہدیداروں سے بات چیت ، وضاحت طلبی کا امکان
حیدرآباد۔ 22 ۔ فروری (سیاست نیوز)  چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتی بہبود کی کارکردگی اور خاص طور پر اسکیمات پر عمل آوری میں سست رفتاری سے ناراض ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اپنے رفقاء اور دفتر کے عہدیداروں کے ساتھ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جس کے بعد محکمہ سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف منسٹر کو عہدیداروں کی جانب سے میڈیا کے مختلف گوشوں میں شائع شدہ خبروں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں اسکیمات میں بے قاعدگیاں، قواعد کے برخلاف من مانی فیصلے اور عہدیداروں میں اختلافات جیسے امور کو اجاگر کیا گیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ان معاملات کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ محکمہ اقلیتی بہبود حکومت کی توقعات کے مطابق کام کرنے سے قاصر ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر کو مختلف رضاکارانہ تنظیموں اور بعض سابق اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے بھی شکایتی یادداشتیں روانہ کی گئیں جن میں حالیہ عرصہ میں محکمہ کے متنازعہ فیصلوں سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا جاتاہے کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بجائے غیر مجاز قابضین کے حق میں کئے گئے بعض فیصلوں کے علاوہ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں کئے گئے قواعد کے خلاف فیصلوں کی تفصیلی طور پر نشاندہی کی گئی۔ چیف منسٹر کے دفتر کو اطلاع دی گئی کہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں عروج پر ہیں اور ملازمین و عہدیداروں میں جوابدہی کا کوئی احساس نہیں۔ مختلف شکایات میں بتایا گیا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود سے قربت رکھنے والے افراد ہر ادارہ کے معاملات میں نہ صرف مداخلت کر رہے ہیں بلکہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلوں کیلئے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ گزشتہ ماہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایک عہدیدار کو ریٹائرمنٹ کے باوجود قواعد کے برخلاف دوبارہ بازمامور کیا گیا، جن کا عمر کا تنازعہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مسئلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کی جانب سے ہدایات کے باوجود عہدیدار اپنے فیصلہ پر برقرار ہیں جس سے سارے محکمہ میں لاقانونیت میں اضافہ کا امکان ہے ۔ جب اعلیٰ عہدیدار ہی قواعد کو طاق پر رکھ دیں تو پھر ماتحت عہدیداروں کو من مانی کرنے سے کون روک سکتا ہے ؟ سکریٹری اقلیتی بہبود نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے اختیارات کم کرنے کیلئے جو احکامات جاری کئے تھے ، اس سے اعلیٰ عہدیداروں میں اختلافات ابھر کر آگئے۔ ڈائرکٹر نے جوابی مکتوب روانہ کرتے ہوئے سکریٹری کے فیصلہ کو عملاً چیلنج کیا لیکن آج تک سکریٹری نے ڈائرکٹر کے اختیارات کو بحال نہیں کیا جو 1993 ء اور 1996 ء میں جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر کی جانب سے تمام صورتحال  اور متنازعہ فیصلوں کے بارے میں وضاحت طلبی سے محکمہ میں کافی ہلچل پائی جاتی ہے اور امکان ہے کہ بہت جلد حکومت عہدیداروں کی تبدیلی کا فیصلہ کرے گی۔ تاہم اس کا انحصار محکمہ کی جانب سے دیئے جانے والے جواب پر منحصر ہے۔ اسی دوران اقلیتی بہبود کے بعض عہدیداروں نے شکایت کی کہ سکریٹری سے قربت رکھنے والا ایک ریٹائرڈ عہدیدار انہیں ہلاک کرنے کی دھمکی دے رہا ہے اور اس نے شہر کے بعض غیر سماجی عناصر کا نام لیکر دھمکانے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاؤز میں حالیہ عرصہ میں بعض پراسرار سرگرمیوں اور رات دیر گئے کے معاملات کا کافی چرچہ ہے اور اس سلسلہ میں زبان کھولنے والے افراد کو کھلے عام دھمکیاں دیتے ہوئے حج ہاؤز میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔ ملازمین نے شکایت کی کہ مذکورہ شخص جو خود کئی ناپسندیدہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہے، وہ دوسروں کو دھمکی دیتے ہوئے اپنی مرضی کے کام کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اس  شخص کی مداخلت پر وقف بورڈ میں بعض متنازعہ فیصلے کئے گئے ۔ حتیٰ کہ بعض سرکاری اسکیمات میں اپنی پسند کے افراد کو اسکیم کی منظوری میں بھی اس شخص نے اعلیٰ عہدیداروں سے اپنی قربت کا استعمال کیا۔

TOPPOPULARRECENT