Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے اداروں میں بے قاعدگیوں پر چیف منسٹر آفس کی توجہ

اقلیتی بہبود کے اداروں میں بے قاعدگیوں پر چیف منسٹر آفس کی توجہ

محکمہ سے وضاحت طلبی ، شکایتوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات پر غور و خوض
حیدرآباد ۔ 15۔  فروری  (سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے اداروں میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایات پر چیف منسٹر آفس نے توجہ مبذول کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے دفتر کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ چونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہے لہذا اقلیتی بہبود میں جاری سرگرمیوں کے بارے میں مختلف گوشوں سے نمائندگی کی گئی۔ کئی رضاکارانہ تنظیموں نے چیف منسٹر کو یادداشت روانہ کرتے ہوئے مختلف اداروں میں جاری بے قاعدگیوں اور عہدیداروں کی من مانی سے واقف کرایا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت مختلف شکایات کی اعلیٰ سطحی جانچ پر غور کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر نظر رکھنے کیلئے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں کو خصوصی ذمہ داری دی ہے اور توقع ہے کہ وہ ان معاملات کی جانچ کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر میں اقلیتی بہبود کے بعض عہدیداروں سے علحدہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے اسکیمات پر عمل آوری اور بے قاعدگیوں کی شکایات کے بارے میں موقف جاننے کی کوشش کی ہے۔ اسی دوران محکمہ اقلیتی بہبود نے بشیر باغ میں واقع اوقافی اراضی کے کرایہ داروں سے کی گئی معاملت کی جانچ اینٹی کرپشن بیورو کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کرایہ داروں سے بعض درمیانی افراد کی معاملت کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ بشیر باغ میں واقع اوقافی اراضی کے 4 کرایہ داروں کو 30 سال کا کرایہ معاف کرتے ہوئے صرف ایک لاکھ روپئے میں دوبارہ کرایہ دار بنادیا گیا اور انہیں ماہانہ 8000 روپئے کرایہ مقرر کیا گیا۔ بتایا جاتاہے اس معاملہ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور دیگر سیکشن کی جانب سے دو مرتبہ مخالفت میں نوٹ تحریر کرنے کے باوجود عہدیدار مجاز نے مقررہ قواعد کی پرواہ کئے بغیر کرایہ نامہ کو منظوری دیدی ۔ اس سلسلہ میں روزنامہ سیاست کی جانب سے انکشاف کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود درمیانی افراد کے خلاف کارروائی کیلئے اس مسئلہ کو اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض گوشے اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملت کو بے نقاب کرنے میں محکمہ اقلیتی بہبود کس حد تک سنجیدہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT