اقلیتی بہبود کے اداروں کی تقسیم کا عمل تیز کردیا گیا

سی ای ڈی ایم کی تقسیم پر حکومت کو تجاویز پیش ، اردو اکیڈیمی کی بھی تقسیم کا آغاز

سی ای ڈی ایم کی تقسیم پر حکومت کو تجاویز پیش ، اردو اکیڈیمی کی بھی تقسیم کا آغاز
حیدرآباد ۔ 14 ۔جولائی (سیاست نیوز) دو ریاستوں کی تقسیم کے بعد دیگر محکمہ جات کی طرح اقلیتی بہبود کے اداروں کی تقسیم کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ جناب احمد ندیم نے وقف بورڈ حج کمیٹی اور سنٹر فار ا یجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز (سی ای ڈی ایم) کی تقسیم سے متعلق تجاویز حکومت کو پیش کردی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ بہت جلد ان اداروں کی تقسیم کے سلسلہ میں باقاعدہ احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اردو اکیڈیمی کی تقسیم کی تیاریاں شروع کی گئیں ہیں اور حکومت کو بہت جلد رپورٹ پیش کردی جائے گی ۔ دیگر محکمہ جات کے مقابلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت اداروں کی تقسیم کا عمل جلد مکمل ہونے کا امکان ہے۔ حکومت کی جانب سے ان اداروں کی باقاعدہ تقسیم کے بعد ان پر تقررات کئے جائیں گے۔ ریاست کی تقسیم کے ساتھ ہی حج کمیٹی اور سی ای ڈی ایم کی تقسیم کا عمل پہلے ہی طئے کردیا گیا تھا اور ان دونوں اداروں کے دفاتر میں آندھراپردیش اور تلنگانہ کیلئے علحدہ علحدہ دفاتر کی جگہ مختص کردی گئی ہے۔ حج کمیٹی کی تقسیم کے باوجود حج سیزن 2014 ء کی تکمیل تک موجودہ حج کمیٹی برقرار رہے گی ۔ حجاج کرام کی واپسی کے بعد حج کمیٹی تلنگانہ اور آندھراپردیش میں تقسیم ہوجائے گی ۔ حکومت وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کے تقرر کے سلسلہ میں بورڈ کی تقسیم میں دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ تقسیم سے قبل تلنگانہ حکومت اپنی ریاست کیلئے علحدہ اسپیشل آفیسر کا تقرر نہیں کرسکتی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم گزشتہ ایک ہفتہ سے اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل میں مصروف ہیں اور وہ حکومت کو قطعی سفارشات پیش کریں گے۔ اسی دوران اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تقسیم کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ 17 جولائی کو ہوگا جس دن کارپوریشنوں کی تقسیم سے متعلق تین رکنی کمیٹی کا اجلاس ہوگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ حکومت اسپیشل آفیسر اقلیتی بہبود اور کمشنر اقلیتی بہبود کے عہدوں پر جلد تقررات کے حق میں ہے کیونکہ عہدیداروں کی عدم موجودگی کے باعث ان اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ۔ 18 جون سے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ اور کمشنر اقلیتی بہبود کے عہدے مخلوعہ ہیں۔ جناب شیخ محمد اقبال آئی پی ایس کی میعاد ختم ہونے کے بعد وہ کمشنر اقلیتی بہبود آندھراپردیش کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوتے ہی دونوں حکومتوں کو اہم عہدوں پر تقررات کرنے ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT