Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے اداروں کی تنظیم جدید کے کام میں سرعت

اقلیتی بہبود کے اداروں کی تنظیم جدید کے کام میں سرعت

بجٹ بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم ، ڈاکٹر پی کے موہنتی کی زیر صدارت اجلاس میں جائزہ

بجٹ بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم ، ڈاکٹر پی کے موہنتی کی زیر صدارت اجلاس میں جائزہ

حیدرآباد۔/11اپریل، ( سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعد دیگر محکمہ جات کی طرح محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی تنظیم جدید کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اگرچہ مجموعی بجٹ کو تلنگانہ اور سیما آندھرا میں آبادی کے اعتبار سے علی الترتیب 58اور 42فیصد کے تناسب سے تقسیم کا فیصلہ کیا گیا تاہم اقلیتی بہبود کا بجٹ اقلیتوں کی آبادی کے لحاظ سے تقسیم ہوگا۔ چیف سکریٹری ڈاکٹر پی کے موہنتی کے پاس منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا گیا کہ 2001 کے اعداد و شمار کے مطابق آندھرا پردیش میں اقلیتوں کی جملہ آبادی42لاکھ 78ہزار 432ہے۔ سیما آندھرا ریاست میں اقلیتوں کی آبادی 39لاکھ 46ہزار346ہوگی جبکہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی 43لاکھ 14ہزار 76 قرار پائی ہے۔ اس اعتبار سے سیما آندھرا کیلئے 48فیصد اور تلنگانہ کیلئے 52فیصد اقلیتی بہبود کا بجٹ تقسیم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملازمین اور دیگر شعبوں کی تقسیم بھی اسی تناسب سے عمل میں آئے گی۔ کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال، انچارج سکریٹری اقلیتی بہبود شمشیر سنگھ راوت، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ایم اے حمید اجلاس میں شریک تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اداروں کی تنظیم جدید کی عاجلانہ تکمیل پر اجلاس میں اطمینان کا اظہار کیا گیا۔15مئی تک تمام اداروں کی تنظیم جدید کا کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ درج فہرست اقوام و قبائیل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے اداروں کے عہدیدار بھی اجلاس میں شریک تھے۔ ابتداء میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ تمام فلاحی اداروں کو ایک ادارہ میں ضم کردیا جائے تاکہ سرکاری خزانہ پر بوجھ کم کیا جاسکے۔اجلاس میں اقلیتی اداروں کی شناخت علحدہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس کے علاوہ ایس سی اور ایس ٹی سے متعلق اداروں کو ضم کیا جائے گا۔ اقلیتی اداروں کی نگرانی سکریٹری اور کمشنر اقلیتی بہبود کے تحت ہوگی۔ اقلیتی فینانس اور کرسچین فینانس کارپوریشن کو ضم کرتے ہوئے ایک ادارہ تشکیل دیا جائے گا جس کے منیجنگ ڈائرکٹر ایک ہی ہوں گے اور یہ ادارہ اقلیتی بہبود کمشنریٹ کے تحت کام کرے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اردو اکیڈیمی میں سی ای ڈی ایم کو ضم کردیا جائے گا۔ سی ای ڈی ایم کی سرگرمیاں اب اردو اکیڈیمی کے ذریعہ انجام دی جائیں گی۔ دائرۃ المعارف، حج کمیٹی اور وقف بورڈ علحدہ طور پر خدمات انجام دیں گے۔ حج اور وقف بورڈ کی تنظیم جدید کیلئے مزید وقت لگ سکتا ہے۔ اجلاس میں کسی بھی ادارہ میں تقررات نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد اسوقت کی حکومت ضرورت کے مطابق تقررات کا فیصلہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT