Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے بجٹ اور اسکیمات پر وزیرفینانس کا اجلاس

اقلیتی بہبود کے بجٹ اور اسکیمات پر وزیرفینانس کا اجلاس

اسکالر شپس، فیس ری ایمبرسمنٹ، اقامتی مدارس، ہاسٹلس اور اجتماعی شادیوں کی اسکیمات پر غوروخوض

اسکالر شپس، فیس ری ایمبرسمنٹ، اقامتی مدارس، ہاسٹلس اور اجتماعی شادیوں کی اسکیمات پر غوروخوض

حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت میں اقلیتی بہبود کے بجٹ کو قطعیت دینے کیلئے وزیر فینانس ای راجندر نے آج محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ محکمہ کے سکریٹری احمد ندیم اور اقلیتی اداروں کے عہدیداروں نے مالیاتی سال 2014-15کیلئے حکومت کو 1049کروڑ 60لاکھ روپئے پر مشتمل بجٹ تجاویز پیش کی ہے جن میں 1036کروڑ65لاکھ منصوبہ جاتی مصارف اور 12کروڑ 95لاکھ غیر منصوبہ جاتی مصارف کے تحت ہوں گے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق کمشنریٹ اقلیتی بہبود کیلئے 809 کروڑ بجٹ کی تجویز پیش کی گئی جس میں اسکالر شپ، فیس ری ایمبرسمنٹ، اقامتی مدارس اور ہاسٹلس کی تعمیر و نگہداشت، اجتماعی شادیاں اور دیگر اسکیمات شامل رہیں گی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے 107 کروڑ 55لاکھ روپئے کی بجٹ تجاویز پیش کی گئیں جن میں بینکوں سے مربوط قرض کیلئے سبسیڈی فراہمی اسکیم کے تحت 81کروڑ 50لاکھ اور چھوٹے قرضہ جات کیلئے 9کروڑ 20لاکھ اور ایمپلائمنٹ اور ٹریننگ اسکیم کیلئے 16کروڑ 85لاکھ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ کرسچین فینانس کارپوریشن کیلئے 33کروڑ 95لاکھ پر مشتمل بجٹ تجاویز پیش کی گئیں۔ اردو اکیڈیمی کی جملہ اسکیمات کیلئے 22کروڑ، وقف بورڈ کیلئے 53کروڑ، سروے کمشنر وقف کیلئے 11کروڑ، سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کیلئے 3کروڑ، دائرۃ المعارف 2کروڑ، حج کمیٹی 2کروڑ اور نورباش سوسائٹی کیلئے 50کروڑ کی بجٹ تجاویز پیش کی گئیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم کے علاوہ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور، آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی محکمہ اقلیتی بہبود فائق احمد، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ایم اے حمید، سروے کمشنر وقف حسن علی بیگ اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے تجویز پیش کی کہ اسکالر شپ کیلئے مختص بجٹ کے مکمل خرچ کیلئے حکومت کو چاہیئے کہ طلبہ کے سرپرستوں کی آمدنی کی حد کو ایک لاکھ روپئے سے بڑھا کر 2لاکھ کردیا جائے۔ انہوں نے سچر کمیٹی کے تحت اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کے مطابق بجٹ کا زیادہ حصہ تعلیمی سرگرمیوں کیلئے مختص کیا جائے گا۔ وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ چیف منسٹر نے پہلے ہی اقلیتی بہبود کا بجٹ1000 کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق بجٹ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے غریب مسلمانوں کیلئے چھوٹے کاروبار سے متعلق نئی اسکیم کے آغاز کی تجویز پیش کی تاکہ چھوٹے قرض فراہم کئے جائیں۔ وزیر فینانس نے تلنگانہ کے ہر ضلع میں کم سے کم دو اقامتی اسکولوں کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اس طرح تلنگانہ میں جملہ 20اقامتی اسکولس قائم ہوں گے۔ فی الوقت تلنگانہ میں صرف 5اقامتی اسکولس موجود ہیں۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ نئے اقامتی اسکولس کے قیام کیلئے منصوبہ تیار کریں۔

TOPPOPULARRECENT