Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے بجٹ مسئلہ پرحکومت کا امتحان

اقلیتی بہبود کے بجٹ مسئلہ پرحکومت کا امتحان

حیدرآباد ۔ 16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں اقلیتی بہبود کے بجٹ کے مسئلہ پر کے سی آر حکومت کا امتحان ہے۔ سرمائی سیشن کے آخری دو دن دونوں ایوانوں میں اقلیتی بہبود پر مباحث کو ایجنڈہ میں شامل کیا گیا ہے ۔ عام طور پر جب کبھی اسمبلی اور کونسل میں اقلیتی بہبود پر مباحث ہوئے حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی بھلائی کیلئے شروع کردہ مختلف اسکیمات اور بجٹ کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اب جبکہ جاریہ مالیاتی سال کا اختتام ہونے کو ہے ، حکومت کیلئے دونوں ایوانوں میں مباحث کا جواب دینا آسان نہیں ہوگا ۔ اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے ، جس کا اظہار خود اعلیٰ عہدیداروں نے کیا ہے۔ ایسے میں حکومت دونوں ایوانوں میں بجٹ کی اجرائی کو حوصلہ افزاء انداز میں پیش نہیں کرپائے گی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے مختص کردہ 1200 کروڑ کے منجملہ 400 کروڑ بھی مکمل طور پر جاری نہیں کئے گئے ۔ گزشتہ ماہ حکومت کو پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 10 ماہ میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر صرف 292 کروڑ روپئے ہی خرچ ہوئے ہیں۔ سرکاری عہدیدار اگرچہ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں 400 کروڑ سے زائد کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن یہ دعویٰ اس لئے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا کیونکہ کئی اسکیمات بجٹ کی کمی کے باعث ٹھپ ہوچکی ہیں۔ بعض اسکیمات تو جاریہ سال شروع نہیں کی جاسکیں۔ اقلیتی اداروں کو ابھی تک صرف پہلے سہ ماہی کا بجٹ جاری کیا گیا جبکہ وہ ایک سہ ماہی کے بجٹ سے اپنی تمام ضرورتوں بشمول تنخواہوں کی ادائیگی عمل میں لارہے ہیں۔ مالیاتی سال کے اختتام کے صرف ایک ماہ باقی ہے ، ایسے میں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اقلیتی بہبود کیلئے مزید کوئی بجٹ جاری کیا جائے گا ۔ جو اہم اسکیمات بجٹ کی اہم اسکیمات کے سبب بری طرح متاثر ہوئی ہیں، ان میں شادی مبارک ، اوورسیز اسکالرشپ ، فیس ری ایمبرسمنٹ ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی شامل ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اقلیتی بہبود اور اسکیمات کے سلسلہ میں دونوں ایوانوں میں کس طرح اپنا دفاع کرے گی ۔ جاریہ ماہ کے اختتام کے بعد نئے مالیاتی سال کا آغاز ہوگا جس میں نیا بجٹ طئے کیا جائے گا ۔ اس طرح مالیاتی سال 2016-17 ء میں اقلیتی بہبود کے تقریباً 800 کروڑ روپئے اجرائی کے بغیر ہی سرکاری خزانہ میں واپس ہوجائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دیگر طبقات کیلئے بھی جاریہ سال فلاحی اسکیمات کا بجٹ مکمل طور پر جاری نہیں ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT