Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ یقینی

اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ یقینی

حیدرآباد۔9۔جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت بجٹ 2018-19 ء میں اقلیتی اسکیمات کیلئے زائد رقم مختص کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کا بجٹ 1249 کروڑ تھا اور توقع ہے کہ فروری میں پیش کئے جانے والے بجٹ میں اقلیتی بہبود کو 1800 کروڑ تک مختص کئے جاسکتے ہیں ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری ایم دانا کشور نے محکمہ فینانس کو جو ابتدائی تجاویز پیش کی ہیں ، ان میں 1700 تا 1800 کی تجاویز شامل کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتی بہبود کے بجٹ کا جائزہ لینے کے بعد اسکیمات کے اعتبار سے کمی یا اضافہ کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر کے پاس اقلیتی بہبود کا قلمدان ہے اور وہ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر موجودہ اسکیمات کے بجٹ میں اضافہ کے علاوہ بعض نئی اسکیمات کے اعلان کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں توقع کی جارہی ہے کہ اقلیتی بہبود کا بجٹ 2000 کروڑ تک پہنچ جائے گا۔ محکمہ فینانس کو جو ابتدائی بجٹ تجاویز داخل کی گئیں، ان میں تعلیمی اور معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بجٹ کو قطعیت 15 جنوری کے بعد دی جائے گی، محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار پر امید ہیںکہ آئندہ بجٹ حوصلہ افزاء رہے گا۔ بجٹ تجاویز کے مطابق دائرۃ المعارف کے لئے 5 کروڑ 50 لاکھ، کرسچن فینانس کارپوریشن 17 کروڑ ، حج کمیٹی 5 کروڑ ، وقف بورڈ گرانٹ ان ایڈ ایک کروڑ ، اردو اکیڈیمی 20 کروڑ ، اردو گھر شادی خانے اور ووکیشنل ٹریننگ 45 کروڑ ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کیاش گرانٹ 20 کروڑ ، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم 100 کروڑ ، پری میٹرک اسکالرشپ 30 کروڑ، مینارٹیز اسٹڈی سرکل 15 کروڑ ، مکہ مسجد و شاہی مسجد 10 کروڑ ، فیس باز ادائیگی اسکیم 30 کروڑ ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم 347 کروڑ ، سروے کمشنر وقف ایک کروڑ ، اقلیتی اقامتی اسکولس 730 کروڑ اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ 35 کروڑ شامل ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے تمام اقلیتی اداروں سے تجاویز حاصل کرتے ہوئے چیف سکریٹری کو پیش کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کی پیشکشی کے بعد چیف منسٹر اسمبلی میں اقلیتوں کے لئے بعض نئے اعلانات کرسکتے ہیں جو انتخابی تیاریوں کے سلسلہ میں ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT