Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی و خرچ کی رفتار مایوس کن

اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی و خرچ کی رفتار مایوس کن

اندرون ایک ماہ بجٹ کی عدم اجرائی پر حکومت کے خزانہ میں منتقل ہوگی ، مالیاتی سال 2018-19 بجٹ کی تیاریاں
حیدرآباد۔15 ۔ جنوری (سیاست نیوز) اب جبکہ مالیاتی سال 2018-19 ء کے بجٹ کی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی اور خرچ کی رفتار مایوس کن ہے۔ اگر ایک ماہ میں بجٹ کی مکمل اجرائی عمل میں نہیں آئے گی تو یہ رقم سرکاری خزانہ میں واپس ہوسکتی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال 2017-18 ء میں حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1249 کروڑ روپئے مختص کئے تھے۔ اب جبکہ تیسرے سہ ماہی کا اختتام ہونے کو ہے 700 کروڑ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی جبکہ خرچ تقریباً 600 کروڑ کا ہوا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اگرچہ 716 کروڑ کے خرچ کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن اس میں مختلف اسکیمات کے بلز شامل ہیں جن کیلئے محکمہ فینانس سے رقم کی اجرائی باقی ہے۔ محکمہ فینانس کے مطابق اقلیتی بہبود کی اسکیمات سے متعلق بلز کے ادخال میں تاخیر کے نتیجہ میں رقم کی اجرائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود بھلے ہی زائد خرچ کا دعویٰ کرلے لیکن مالیاتی سال کے اختتام تک بمشکل 800 کروڑ کی اجرائی ممکن ہوپائے گی اور 300 کروڑ سے زائد سرکاری خزانہ میں واپس ہوجائیں گے۔ اقلیتی بہبود کیلئے حکومت نے ہر سال نئی اسکیمات کا آغاز کیا اور اس کیلئے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا لیکن خرچ کے معاملہ میں محکمہ کا رویہ متحدہ آندھراپردیش کی طرح برقرار ہے۔ 2014-15 ء سے 2017-18 ء تک اقلیتی بہبود کیلئے 4579 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے گئے جبکہ 2742 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 5 بجٹ میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر 2281 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر اقلیتی بہبود کو بجٹ کی اجرائی اور خرچ کا معاملہ اطمینان بخش نظر نہیں آتا۔ کئی اسکیمات ایسی ہیں جن کیلئے جاریہ سال انتہائی کم بجٹ جاری کیا گیا۔ ایسی اسکیمات جو گرین چیانل میں ہیں، جیسے شادی مبارک اس کے لئے زائد رقم خرچ ہوئی ہے۔ محکمہ فینانس سے بجٹ کے حصول کے سلسلہ میں عہدیداروں کا رول اہمیت کا حامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود میں تجربہ کار عہدیداروں کی کمی کے باعث محکمہ فینانس سے مقررہ وقت پر رقومات حاصل نہیں کی جاسکی۔ گزشتہ 4 برسوں میں اقلیتی بہبود کی جملہ 60 سے زائد اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے محکمہ تعلیم کے بجائے اقلیتی بہبود ڈپارٹمنٹ سے بجٹ کی اجرائی عمل میں آرہی ہے ۔ گزشتہ سال اسکولوں کیلئے 350 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جن میں 205 کروڑ خرچ کئے گئے۔ جاریہ سال 204 اقامتی اسکولوں کیلئے 425 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا ۔ اس میں اسکولوں کے انتظامات کے علاوہ نئی عمارتوں کی تعمیر کا بجٹ بھی شامل ہے۔ 318 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ 207 کروڑ خرچ کئے گئے۔ فیس باز ادائیگی اسکیم میں گزشتہ تین برسوں کے بقایہ جات کے سبب بجٹ کی اجرائی کا معاملہ حوصلہ افزاء نہیں رہا۔ جاریہ سال فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے 180 کروڑ بجٹ میں مختص کئے گئے جبکہ 150 کروڑ طلبہ کیلئے جاری کرنے کا عہدیداروں کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے کئی کالجس کے طلبہ فیس سے محروم ہیں۔ حکومت بقایہ جات کو مرحلہ وار طور پر جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے سلسلہ میں 41 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے سلسلہ میں تین مرحلوں میں علی الترتیب 226 اور 140 طلبہ کی درخواستوں کو منظوری دی گئی۔ چوتھے مرحلہ میں 31 ڈسمبر 2017 ء تک 335 امیدواروں کو منتخب کیا گیا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینک سے مربوط سبسیڈی کی اجرائی اسکیم پر عمل آوری عملاً مفلوج ہوچکی ہے۔ جاریہ سال سبسیڈی اسکیم کیلئے 150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن کارپوریشن سے صرف 22 کروڑ 50 لاکھ کی سبسیڈی جاری کی گئی ۔ حکومت نے بینکوں سے تعلق کے بغیر راست قرض کی اجرائی کی اسکیم تیار کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی لیکن ابھی تک عہدیداروں نے اسکیم کو قطعیت نہیں دی ہے۔ حکومت چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے 50 ہزار روپئے تک راست قرض جاری کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ مالیاتی سال اس اسکیم پر عمل آوری ہوگی۔ ٹریننگ ایمپلائیمنٹ اسکیم پر عمل آوری میں کارپوریشن کا رول حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ خواتین کو مختلف رضاکارانہ تنظیموں کے ذریعہ سلائی مشن تقسیم کئے گئے لیکن اس اسکیم میں بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں۔ ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کی رقم گزشتہ 8 ماہ سے جاری نہیں کی گئی۔ حکومت نے اگرچہ بجٹ مختص کیا ہے لیکن وقف بورڈ کو اسکیم پر عمل آوری میں اسٹاف کی کمی کے نتیجہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT