Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے سکریٹری کی حیثیت سے غیر متنازغہ اور سنجیدہ عہدیدار کو ترجیح

اقلیتی بہبود کے سکریٹری کی حیثیت سے غیر متنازغہ اور سنجیدہ عہدیدار کو ترجیح

عنقریب احکام جاری کئے جائیں گے ، جناب احمد ندیم آئی اے ایس کے نام کو قطعیت

عنقریب احکام جاری کئے جائیں گے ، جناب احمد ندیم آئی اے ایس کے نام کو قطعیت

حیدرآباد۔/17جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی اداروں پر تقررات کے سلسلہ میں توجہ مبذول کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری کی حیثیت سے کسی غیر متنازعہ اور سنجیدہ عہدیدار کے تقرر کے حق میں ہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے اس عہدہ کیلئے جناب احمد ندیم (آئی اے ایس ) کے نام کو قطعیت دی ہے جو فی الوقت کمشنر ایکسائیز و پروہبیشن کے عہدہ پر فائز ہیں۔ توقع ہے کہ بہت جلد اس سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ اقلیتی بہبود سے متعلق مختلف اسکیمات اور حکومت کے نئے وعدوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے کئی عہدیداروں کے ناموں پر غور و خوض کیا۔ ابتداء میں وہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کیلئے ایک ہی عہدیدار کے تقرر کے حق میں تھے اور بہبودی سے متعلق تمام اُمور انہوں نے سینئر عہدیدار ٹی رادھا کے سپرد کردیئے تھے۔ تاہم ایک عہدیدار کیلئے تمام طبقات کی بھلائی سے متعلق اُمور کی نگرانی میں دشواری کو محسوس کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے علحدہ عہدیدار کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں اپنے دفتر کے عہدیداروں اور مشیروں سے مشاورت کی جس میں جناب احمد ندیم کے نام پر اتفاق رائے پایا گیا۔ جناب احمد ندیم جن کا تعلق اترپردیش سے ہے وہ سابق میں بھی سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں، وہ انتہائی اصول پسند اور دیانتدار عہدیدار کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔اسی دوران چیف منسٹر نے اقلیتوں سے متعلق سرکاری اداروں پر تقررات کا عمل تیز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے موجودہ اقلیتی اداروں اور ان کے عہدوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔

اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی، اردو اکیڈیمی اور اقلیتی کمیشن پر عنقریب تقررات کا امکان ہے اور اس سلسلہ میں پارٹی میں گذشتہ 14برسوں سے سرگرم قائدین کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔چیف منسٹر کے انتہائی بااعتماد رفیق اور رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشوراؤ کو ناموں کو قطعیت دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے اور وہ مختلف اداروں کی تفصیلات کے ساتھ اس کام میں مصروف ہوچکے ہیں۔چونکہ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں ضروری اُمور کی تکمیل میں تاخیر ہوسکتی ہے لہذا فوری تشکیل پانے والے اداروں میں وقف بورڈ شامل نہیں۔ دوسری طرف نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے ٹی آر ایس قائدین میں زبردست دوڑ دھوپ دیکھی جارہی ہے۔ حیدرآباد اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین اپنے اپنے بائیو ڈاٹا اور مختلف وزراء کی سفارشات کے ساتھ چیف منسٹر کے دفتر رجوع ہورہے ہیں۔ عہدوں کے حصول کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بھی نمائندگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے قائدین کے علاوہ بعض ایسی شخصیتیں بھی عہدوں کیلئے دوڑ دھوپ کررہی ہیں جنہوں نے اپنی تنظیموں اور جماعتوں کے بیانر تلے انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ اقلیتی اداروں کے صدورنشین اور ڈائرکٹرس کے عہدوں پر تقرر کے سلسلہ میں انتخابی مہم کے دوران ہی کئی قائدین سے وعدہ کرچکے ہیں۔ اردو اکیڈیمی کی صدارت کیلئے پارٹی کے ایک بزرگ قائد کا نام سرِفہرست بتایا جاتا ہے جن سے قانون ساز کونسل کی رکنیت یا پھر چیرمین کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے خواہشمندان ریاستی وزراء ہریش راؤ اور کے ٹی راما راؤ کی تائید حاصل کرنے کیلئے بھی سرگرداں ہیں۔ عہدوں کے خواہشمندوں کی اکثریت کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کو یہ طئے کرنا مشکل ہوجائے گا کہ ان اداروں میں کس کو نمائندگی دی جائے کیونکہ عہدوں کے مقابلہ خواہشمندوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT