Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے لیے مختص بجٹ کا نصف حصہ بھی خرچ نہیں کیا گیا

اقلیتی بہبود کے لیے مختص بجٹ کا نصف حصہ بھی خرچ نہیں کیا گیا

آئندہ مالیاتی سال مزید اضافہ کے لیے مساعی ، بجٹ کے خرچ کو یقینی بنانے محکمہ اقلیتی بہبود کوشاں
حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز ) محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے آئندہ مالیاتی سال بجٹ میں اضافہ کی مساعی کی جارہی ہے۔ حکومت نے آئندہ سال بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں مختلف محکمہ جات سے تجاویز طلب کی ہیں۔ اقلیتی بہبود کیلئے جاریہ سال 1130کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا اور اگرچہ بجٹ کا نصف حصہ بھی خرچ نہیں کیا گیا تاہم محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے حکومت کو بجٹ میں اضافہ کی تجویز پیش کی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے حکومت کو بعض نئی اسکیمات کے ساتھ بجٹ میں اضافہ کی تجویز پیش کی تاکہ اسکیمات پر عمل آوری کے ذریعہ مکمل بجٹ کے خرچ کو یقینی بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حال ہی میں اقلیتوں کے جائزہ اجلاس اور اسمبلی میں اقلیتوں سے متعلق جو اعلانات کئے تھے اُن کے مطابق مختلف اسکیمات تیار کرتے ہوئے محکمہ فینانس کو پیش کیا گیا ہے۔ وزیر فینانس ای راجندر نے اس بات کا اشارہ دیا کہ آئندہ مالیاتی سال اقلیتوں کیلئے بعض نئی اسکیمات کو منظوری دی جاسکتی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور بہت جلد دوبارہ ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں بجٹ میں شامل کی جانے والی تجاویز کو قطعیت دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کیلئے 120 اقامتی مدارس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور ہر سال 60 انگلش میڈیم اقامتی مدارس قائم کئے جائیں گے۔ آئندہ تعلیمی سال سے لڑکیوں کیلئے 30اور لڑکوں کیلئے 30اقامتی مدارس کرایہ کی عمارتوں میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ ذاتی عمارت کیلئے اراضی کی نشاندہی کی ذمہ داری ضلع کلکٹرس کو دی گئی ہے اور حکومت ایک سال میں عمارتوں کی تعمیر کی خواہاں ہے۔ مدارس کے قیام کیلئے ابتداء میں 500کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی تاہم یہ بجٹ ناکافی بتایا جاتا ہے۔ چیف منسٹر نے پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اور مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالر شپ کے تمام درخواست گذاروں کو اسکالر شپ منظور کرنے کا تیقن دیا ہے جس کیلئے  بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ شادی مبارک اسکیم کے بجٹ کو 100کروڑ سے بڑھا کر 200 کروڑ کیا جاسکتا ہے کیونکہ جاریہ سال اس اسکیم کے تحت 100کروڑ کا نشانہ مکمل کرلیا گیا اور مزید 5000سے زائد زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کیلئے حکومت نے مزید 50کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ بجٹ میں اقلیتوں سے متعلق نئی اسکیمات کی شمولیت کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی سطح پر جائزہ اجلاس منعقد ہوگا۔ درج فہرست اقوام و قبائیل کی طرح غریب اقلیتوں کو 80فیصد سبسیڈی فراہم کرتے ہوئے نئی اسکیم تیار کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ فیس بازادائیگی، ائمہ و مؤذنین کی تنخواہیں، اوورسیز اسکالر شپ اسکیم اور دیگر اسکیمات کیلئے بجٹ میں اضافہ کی تجویز ہے۔ محکمہ فینانس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بجٹ میں نئی اسکیمات کی شمولیت کے ذریعہ موجودہ بجٹ میں خرچ نہ کی گئی رقم کو نئی اسکیمات کیلئے الاٹ کیا جائے گا۔ اس طرح حکومت کو بجٹ میں اضافہ کی ضرورت نہیں پڑیگی۔ واضح رہے کہ 1130کروڑ روپئے کے منجملہ ابھی تک صرف 400کروڑ روپئے جاری کئے گئے جبکہ بجٹ کے خرچ کا اندازہ 360کروڑ روپئے بتایا جاتا ہے جس میں ’ شادی مبارک‘ اسکیم کے 110کروڑ روپئے شامل ہیں۔ تلنگانہ حکومت موجودہ بجٹ میں ہی نئی اسکیمات کو شامل کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جاریہ مالیاتی سال کے اختتام تک محکمہ اقلیتی بہبود کتنا بجٹ خرچ کرپائے گا اور حکومت آئندہ سال کیلئے بجٹ میں کس حد تک اضافہ کرے گی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کو یقین ہے کہ بجٹ میں آئندہ مالیاتی سال اضافہ ضرور ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT