Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / اقلیتی تعلیمی اداروں پر دستوری مراعات کے بیجا استعمال کا الزام

اقلیتی تعلیمی اداروں پر دستوری مراعات کے بیجا استعمال کا الزام

نئی دہلی ۔ 8 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس سے ملحقہ ایک زعفرانی تنظیم نے اپنے اس احساس کا اظہار کیا ہے کہ اقلیتوں کی طرف سے چلائے جانے والے کئی تعلیمی ادارے دستور کی طرف سے انہیں فراہم کردہ خود اختیاری کی مراعات کا بے جا استعمال کر رہے ہیں جس کے خلاف قانونی کارروائی اور ایسے اداروں کی تشریح کے ضابطہ کی تبدیلی کیلئے کئے جانے والے

نئی دہلی ۔ 8 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس سے ملحقہ ایک زعفرانی تنظیم نے اپنے اس احساس کا اظہار کیا ہے کہ اقلیتوں کی طرف سے چلائے جانے والے کئی تعلیمی ادارے دستور کی طرف سے انہیں فراہم کردہ خود اختیاری کی مراعات کا بے جا استعمال کر رہے ہیں جس کے خلاف قانونی کارروائی اور ایسے اداروں کی تشریح کے ضابطہ کی تبدیلی کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔ بھارتیہ شکشن منڈل نے جو تعلیمی شعبہ میں کام کرنے والی آر ایس ایس کی تنظیم ہے، ملک میں تعلیم و تدریس کے ضابطوں کو بہتر بنانے کیلئے ماہرین تعلیم اور اساتذہ پر مشتمل ایک قانونی خود اختیار ادارے کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ شکشن منڈل کے جوائنٹ آرگنائزنگ سکریٹری مکل کنتکر نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو اسل لئے خود اختیاری دی گئی ہے کہ وہ ان طبقات میں تعلیم کو عام کریں۔

مکل کنتکر نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’کئی ایسے اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں، جن کے انتظامیہ اقلیتوں پر مشتمل ہیں لیکن ان اداروں میں زیر تعلیم طلبہ میں اقلیتوں کے بجائے اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کے باوجود وہ (ادارے) قانون حق تعلیم پر عمل آوری نہیں کرتے نہ ہی حکومت کی عوامی بہبود پالیسیوں کو روبہ عمل لایا جاتا ہے ۔ اس قسم کا بیجا استعمال ہورہاہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کون چلا رہے ہیں، اس بات سے قطعی نظر وہاں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد کی بنیاد پر اقلیتی تعلیمی اداروں کی تشریح کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کیا جانا چاہئے اور اس ضمن میں ہم سپریم کورٹ پہنچ کر قانونی کارروائی کے بارے میں غور کر رہے ہیں‘‘۔ مکل کنتکر سے شکشن منڈل کی طرف سے تیار کردہ تعلیمی پالیسی کے مسودہ پر ان کے تبصروں کے بارے میں وضاحت کی خواہش کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ منڈل نے ایک مسودہ پیش کیا ہے،

اس سے قبل ملک بھر کے چار ہزار ٹیچرس اور ماہرین تعلیم سے رائے اور تفصیلات حاصل کی گئی۔ اس ضمن میں مزید تجاویز حاصل کرنے کے بعد رپورٹ کا مسودہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو روانہ کیا جائے گا۔ کنتکر نے کہا کہ مسودہ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ تعلیمی نظام کے تمام پہلوؤں کی نگرانی اور اس پر کنٹرول کیلئے ایک آزاد اور خود اختیار تعلیمی کمیشن قائم کیا جائے اور تمام اضلاع میں اس کی یونٹیں بنائی جائیں۔ کنتکر نے کہا کہ یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ تعلیم کو حکومت اور دفتر شاہی کے کنٹرول سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ مسودہ میں ایک ا ہم سفارش یہ بھی ہے کہ نویں تا بارھویں جماعتوں کے طلبہ کو مادری زبان میں تعلیم فراہم کی جائے ۔ اس کے ساتھ سنسکرت، عربی اور فارسی ، لاطینی یا یونانی جیسی کسی ایک کلاسیکی زبان بھی نصاب میں شامل رکھی جائے۔ کنتکرنے اخباری نمائندوں کے ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے سمرتی ایرانی کی کارکردگی میں وزارت فروغ انسانی وسائل کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT