Sunday , February 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طبقات کو ترقی کے بہتر سے بہتر مواقع کی فراہمی : مختار عباس نقوی

اقلیتی طبقات کو ترقی کے بہتر سے بہتر مواقع کی فراہمی : مختار عباس نقوی

اُردو یونیورسٹی میں شروعات بس کی آمد، مختار عباس نقوی ، کے ٹی آر اور جناب ظفر سریش والا کی مخاطبت
حیدرآباد، 26؍ نومبر (پریس نوٹ) ’شروعات بس‘ انٹرپرینیور شپ کے فروغ کے سلسلہ میں ملک بھر میں چلائی جارہی ہے اور مرکزی حکومت نئی صنعتوں اور منصوبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ میک ان انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا جیسے پروگرام آنٹرپیرینیورشپ کے پیام کو ملک کے طول و عرض میں پہنچانے کے مشن پر ہیں۔ حکومت کا مقصد احترام کے ساتھ ترقی ہے۔ حکومت میک ان انڈیا کے تحت ضرورت کا ہر سامان ملک ہی میں تیار کرناچاہتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب مختار عباس نقوی، مرکزی وزیر اقلیتی و پارلیمانی امور، حکومت ہند نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں این ڈی ٹی وی کی جانب سے منعقدہ مباحثے میں کیا۔ مانو میں نیتی آیوگ کی سرپرستی میں گلوبل انٹراپرینیور شپ سمٹ 2017 کے متعلق شعور بیدار کے لیے آج ’’شروعات بس‘‘ کی آمد پر منعقدہ پروگرام کا مباحثہ بھی حصہ تھا۔گلوبل آنٹرپرینیور شپ سمٹ 2017 کے سلسلہ دہلی سے شروع ہوئی اس بس میں طلبہ کو 100 سیکنڈ پر مشتمل ایک ویڈیو ریکارڈ کرنا تھا۔ جس میں وہ اپنے کاروباری نظریہ سے منصوبے پیش کرسکتے تھے۔ منتخبہ بہترین منصوبوں کو نیتی آیوگ اور صنعتکاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں بہترین پلیٹ فارم میسر ہو۔ اس پروگرام کی صدارت جناب ظفر سریش والا، چانسلر، اردو یونیورسٹی نے کی۔ جناب نقوی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ملک میں اقلیتی طبقات کو بہتر سے بہتر مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ 52 مسلم آئی اے ایس منتخب ہوئے۔ یہ تعداد پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ پہلے سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کا تناسب 5 فیصد تھا اب یہ بڑھ کر 9 سے تجاوز کر گیا ہے۔ ہم لوگوں کو بہتر ماحول فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے بڑھیں اور ترقی کریں۔ ابتداء میں جناب کے ٹی راما رائو، وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی ، حکومت تلنگانہ ، جناب ظفر سریش والا اور ڈاکٹر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر، مانو نے بس کو جھنڈا دکھاکر پروگرام کا آغاز کیا۔ جناب کے ٹی راما رائو نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ محض آغاز ہے۔ حیدرآباد میں گلوبل آنٹرپرینیورشپ سمٹ کا انعقاد ایک اعزاز ہے۔ اس سے شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ریاست اور ملک کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے اُردو یونیورسٹی کے حوالے سے کہا کہ تلنگانہ میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے۔ ان کے دادا، پردادا نے اردو ذریعہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہاں اس بس کے ذریعہ صنعت کاری کے بہت سے منصوبے سامنے آئیں گے۔

TOPPOPULARRECENT