Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طلبہ کو سیول سرویس کوچنگ کا آغاز ، اسکیم کو حکومت کی منظوری

اقلیتی طلبہ کو سیول سرویس کوچنگ کا آغاز ، اسکیم کو حکومت کی منظوری

حیدرآباد ۔ 16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کو حکومت کے خرچ پر سیول سرویسز کی کوچنگ کا آج سے تین خانگی اداروں میں باقاعدہ آغاز ہوگیا ۔ جاریہ سال حکومت نے منفرد اسکیم کو منظوری دی جس کے تحت اقلیتی طلبہ اپنی پسند کے خانگی ادارے میں سیول سرویسز کی کوچنگ حاصل کرپائیں گے ۔ اسکیم کے پہلے سال اگرچہ 100 طلبہ کو کوچنگ کیلئے اہل قرار دیا گیا لیکن صرف 86 طلبہ نے داخلہ حاصل کیا۔ عہدیداروں کو امید ہے کہ باقی طلبہ بھی جلد داخلہ حاصل کرلیں گے ۔ سیول سرویسز میں اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافہ کے مقصد سے کوچنگ کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ اگرچہ سابق میں بھی کئی برسوں تک اقلیتی طلبہ کو کوچنگ فراہم کی گئی لیکن خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ سیول سرویسز میں سخت ترین مسابقت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے شہر کے نامور خانگی اداروں میں کوچنگ فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ سیول سرویسز کوچنگ میں اہم رول ادا کرنے والے ڈائرکٹر سی ای ڈی ایم پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ آر سی ریڈی انسٹی ٹیوٹ میں 62 ، برین ٹری (19) اور حیدرآباد اسٹیڈی سرکل میں (5) طلبہ نے داخلہ حاصل کیا ہے اور آج سے ان کی کوچنگ شروع ہوچکی ہے ۔ آر سی ریڈی کو حکومت فی طالب علم ایک لاکھ 16 ہزار روپئے ادا کرے گی جبکہ برین ٹری کو فی طالب علم ایک لاکھ 26 ہزار 500 روپئے اور حیدرآباد اسٹیڈی سرکل کو 93000 روپئے ادا کئے جائیں گے ۔ 86 طلبہ میں 23 لڑکیاں ہیں۔ حکومت نے اضلاع سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ماہانہ 5000 روپئے اور شہر کے طلبہ کو 2,500 روپئے بطور اسٹائیفنڈ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم اس سلسلہ میں حکومت کے احکامات کی اجرائی باقی ہے۔ طلبہ کو اسٹیڈی مٹیریل کے لئے 3,500 روپئے ادا کئے جائیں گے۔ سیول سرویسز کی کوچنگ کے تحت پہلی مرتبہ اقلیتی طلبہ کو پریلمس اور مینس کی کوچنگ دی جائے گی ۔ حکومت کو ہر امیدوار پر دیڑھ لاکھ روپئے سے زائد کا خرچ آئے گا اور یہ کوچنگ 9 ماہ تک جاری رہے گی ۔ مجموعی طورپر اس اسکیم کیلئے دو کروڑ روپئے کے خرچ کا تخمینہ ہے اور میناریٹی اسٹیڈی سرکل کو اس سلسلہ میں جاری کردہ بجٹ اسکیم پر خرچ کیا جائے گا ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ تینوں اداروں سے طلبہ کی حاضری اور ان کے معیار کے بارے میں ماہانہ رپورٹ حاصل کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار وقتاً فوقتاً ان اداروں کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کوچنگ کے سلسلہ میں کوئی کوتاہی نہ کریں اور اس موقع کو غنیمت جانکر پوری دلچسپی کے ساتھ کوچنگ حاصل کریں۔ تلنگانہ حکومت نے کوچنگ کیلئے اقلیتی طلبہ کے سرپرستوں کی آمدنی کی حد دو لاکھ روپئے مقرر کی ہے جو ایس سی اور بی سی طلبہ کیلئے بھی یکساں ہے۔ کرناٹک حکومت نے سیول سرویسز کی کوچنگ کیلئے آمدنی کی حد 6 لاکھ روپئے مقرر کی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے حکومت سے آمدنی کی حد میں اضافہ کی سفارش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT