Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طلبہ کو سیول سرویس کی کوچنگ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی

اقلیتی طلبہ کو سیول سرویس کی کوچنگ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی

اگست میں آل انڈیا سرویس کا امتحان ، قیمتی ایک سال ضائع ، حکومت کا اعلان ، عمل ندارد
حیدرآباد ۔ 13۔ جولائی (سیاست نیوز) آل انڈیا سرویسس اور سرکاری شعبہ جات میں مسلمانوں کی غیر متناسب نمائندگی کیلئے عام طور پر حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن تلنگانہ میں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ حکومت نے اقلیتی طلبہ کیلئے مواقع فراہم کئے لیکن عہدیداروں کو اقلیتوں کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس طرح آل انڈیا سرویسس میں اقلیتوں کی کم نمائندگی کے ذمہ دار اقلیتی بہبود کے عہدیدار ہیں جنہوں نے جاریہ سال اپنی غیر ذمہ داری کے ذریعہ اس کا ثبوت پیش کردیا ۔ حکومت نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسس کی کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اقلیتی طلبہ کا ایک سال ضائع کردیا اور آج تک کوچنگ کا آغاز نہیں کیا گیا جبکہ آئندہ ماہ اگست کے دوسرے ہفتہ میں آل انڈیا سرویسس کے امتحانات مقرر ہیں۔ اقلیتی طلبہ کے ایک سال کے زیاں کیلئے آخر کون ذمہ دار ہے اور اس نقصان کی تلافی کس طرح کی جائے گی ۔ ظاہر ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری کی عدم دلچسپی اور تساہل کے نتیجہ میں ان 62 مسلم طلبہ کا ایک سال ضائع ہوگیا جنہیں سیول سرویسس کی کوچنگ کیلئے منتخب کیا گیا تھا ۔ یہ منتخب طلبہ کوچنگ کے آغاز کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے چکر کاٹ کر تھک گئے اور وہ بغیر کوچنگ کے امتحان لکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوچنگ کے بغیر اقلیتی طلبہ کے نتائج اس قدر حوصلہ افزاء نہیں ہوسکتے جن سے کہ وہ آل انڈیا سرویسس کیلئے منتخب ہوسکیں۔ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار کے رویہ پر برہم طلبہ نے ریمارک کیا کہ اگر اس طرح کے عہدیدار رہیں تو پھر مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ طلبہ نے کہا کہ جب اپنے ہی پسماندگی کے ذمہ دار ہوں تو پھر بیرونی عناصر کے رول کی ضرورت نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تمام اہم عہدوں پر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے عہدیدار موجود ہیں لیکن وہ جاریہ سال آل انڈیا سرویسس کی کوچنگ کے آغاز میں ناکام ثابت ہوئے ۔

حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ جاریہ سال طلبہ کو ان کی پسند کے کوچنگ سنٹر میں داخلہ دیا جائے گا اور اس کی فیس حکومت ادا کرے گی۔ معیاری کوچنگ سنٹر کے انتخاب کے لئے حکومت نے 13 اپریل کو 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں راہول بوجا آئی اے ایس ، اکن سبھروال آئی پی ایس اور تفسیر اقبال آئی پی ایس شامل تھے۔ انہیں بیسٹ کوچنگ سنٹرس کے بارے میں اندرون دو ہفتہ رپورٹ پیش کرنے کی مہلت دی گئی لیکن افسوس کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود آج تک اس کمیٹی نے رپورٹ پیش نہیں کی جس کے سبب اقلیتی طلبہ کا ایک سال ضائع ہوجائے گا۔ اب جبکہ سیول سرویسس امتحانات کیلئے بمشکل ایک ماہ باقی رہ گیا ہے ، ایسے میں اگر کسی ادارہ کا انتخاب کرلیا جائے تب بھی وہ ادارہ طلبہ کو داخلہ دینے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ سابق میں سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کی جانب سے سیول سرویسس کی کوچنگ کا اہتمام کیا جاتا رہا لیکن جاریہ سال حکومت نے کسی معیاری ادارہ میں کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور طلبہ کی فیس کی ادا ئیگی کیلئے 12 کروڑ روپئے مختص کئے لیکن افسوس کہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار 6 ماہ پر مشتمل اس کوچنگ کی فراہمی میں ناکام ثابت ہوئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہ رکنی کمیٹی سے سفارشات حاصل کرنے میں کیا دشواریاں تھیں۔ اور اگر کمیٹی نے رپورٹ پیش نہیں کی تو عہدیدار اپنے طور پر کسی موزوں ادارہ کا انتخاب کرسکتے تھے۔ حکومت نے اس اسکیم کے تحت 100 اقلیتی طلبہ کو اسپانسر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن محکمہ نے اسکریننگ ٹسٹ میں حصہ لینے والے 288 طلبہ میں سے 62 کا کوچنگ کیلئے انتخاب کیا لیکن انہیں بھی کوچنگ فراہم نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اب آئندہ سال کوچنگ کی فراہمی پر غور کر رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT